واشنگٹن / تہران :مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب اپنے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر اور عسکری ماہرین کے تجزیے نے اس لرزہ خیز حقیقت کی تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ نے ایران کے انتہائی حساس فوجی کمپلیکس ‘پارچین’ (Parchin) پر دنیا کا سب سے طاقتور روایتی بم گرا دیا ہے، جس کے بعد ایران کے ایٹمی پروگرام کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے بی ٹو (B-2 Spirit) اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے امریکہ کی ریاست میزوری سے اڑان بھری اور تقریباً 25 ہزار کلومیٹر کا طویل ترین سفر طے کر کے ایران کے ‘طالقان-2’ (Taleghan-2) نامی مرکز کو نشانہ بنایا۔
اس حملے میں GBU-57 Massive Ordnance Penetrator (MOP) کا استعمال کیا گیا، جو 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ایک ایسا دیو ہیکل بم ہے جو زمین کے اندر 200 فٹ گہرائی تک ٹھوس کنکریٹ کو چیر کر دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پارچین ہی کیوں؟ ایٹمی رازوں کی پناہ گاہ
ماہرین کے مطابق یہ حملہ کسی تیل کے ذخیرے یا بحری اڈے پر نہیں تھا، بلکہ اس کا ہدف وہ جگہ تھی جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو 2015 میں انسانی ساختہ یورینیم کے ذرات ملے تھے۔
طالقان-2: یہ وہ مقام ہے جہاں ایران مبینہ طور پر ایٹم بم کے ‘ٹرگر’ (High-explosive initiators) بنانے کے تجربات کرتا رہا ہے۔
اسرائیل نے 2018 میں ایران کے ‘آماد پلان’ کے جو 55 ہزار صفحات چوری کیے تھے، ان میں بھی پارچین کے مرکزی کردار کی نشاندہی کی گئی تھی۔
معاشی اور علاقائی اثرات: ایک تباہ کن صورتحال
اس جنگ نے صرف 6 دنوں میں عالمی معیشت کو 11.3 ارب ڈالر کا ٹیکہ لگایا ہے۔
آبنائے ہرمز جہاں روزانہ 138 بحری جہاز گزرتے تھے، اب وہاں صرف 8 ٹینکرز رہ گئے ہیں۔
دبئی کے آسمان پر دفاعی نظام کے ملبے کی بارش ہو رہی ہے جبکہ عمان کے ثالثی مراکز آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
یہ جنگ اب سیاسی بیانات سے نکل کر ایٹمی بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اگر تہران یہ سمجھتا ہے کہ اس کا ایٹمی راستہ (Nuclear Hedge) بند کر دیا گیا ہے، تو اس کے پاس اب دو ہی راستے بچتے ہیں یاتو وہ مکمل ہتھیار ڈال دے جو موجودہ ایرانی قیادت کے لیے ناممکن نظر آتا ہے۔
یاپھرایٹمی دوڑ میں تیزی لاتے ہوئے خفیہ مقامات پر تیزی سے ایٹم بم تیار کرنا تاکہ مستقبل کے حملوں سے بچا جا سکے۔
“ مدر آف آل بمبز“تاریخ کا ہولناک ترین غیر جوہری حملہ: ایران کا ‘پارچین ‘ ایٹمی مرکز ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا

