،
بحیرہ عرب / واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچ گئی جب امریکی بحریہ کے جدید ترین لڑاکا طیارے ایف-35 سی (F-35C) نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی ڈرون امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے انتہائی قریب آگیا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ایران کا شاہد-139 ڈرون انتہائی جارحانہ انداز میں امریکی بیڑے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ڈرون کو بارہا انتباہ دیا گیا اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے گئے لیکن اس نے پرواز جاری رکھی۔خطرے کو محسوس کرتے ہوئے ابراہم لنکن سے اڑان بھرنے والے ایف-35 سی نے اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی یا ساز و سامان کو نقصان نہیں پہنچا۔
ڈرون گرانے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی دو کشتیوں اور ایک ڈرون نے آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم والے تجارتی جہاز ’سٹینا امپیریٹو‘ کو روکنے اور اس پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی۔ امریکی ڈسٹرائر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تجارتی جہاز کو فضائی مدد کے سائے میں وہاں سے بحفاظت نکالا۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈرون مار گرائے جانے سے قبل ہی کامیابی سے تصاویر اور ڈیٹا ایران منتقل کر چکا تھا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم ابھی ان (ایران) کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں،” تاہم انہوں نے ماضی کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کو خبردار بھی کیا کہ وہ دوبارہ ایسی صورتحال نہیں چاہے گا۔
تاہم جنگی جنون کے سائے میں سفارتی دروازے بھی کھلے دکھائی دئیے ہیں ترکی اور عمان نے دونوں حریف ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔اسٹیو وٹ کوف اور ایرانی حکام کے درمیان آئندہ چند روز میں ملاقات متوقع ہے، جس کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگی بادل گہرے: بحیرہ عرب میں امریکی ایف-35 نے ایرانی ڈرون مار گرایا

