لاہور (ملک ظہیر کی رپورٹ )پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کے تحت رائٹ مینجمنٹ پولیس کے قیام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ ترجمان رائٹ مینجمنٹ پولیس کے مطابق اس ترمیم کا مقصد پرتشدد ہجوم اور فسادات سے مؤثر اور منظم انداز میں نمٹنا ہے۔ نئے قانون کے تحت پرتشدد ہجوم سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اور تربیت یافتہ فورس رائٹ مینجمنٹ پولیس قائم کی گئی ہے، جو جدید تربیت اور واضح قانونی اختیارات کے ساتھ فرائض انجام دے گی۔ ترمیم شدہ قانون میں پرتشدد ہجوم کے رویے کو قابلِ دست اندازی اور ناقابلِ ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ ایسے مقدمات کا ٹرائل سیشن کورٹ میں ہوگا۔ قانون میں فسادات میں ملوث افراد کے لیے سزاؤں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت 10 سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پرتشدد ہجوم کے خلاف کارروائی میں 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا بھی شامل کر دی گئی ہے۔ ترمیم کے ذریعے قانون میں ’رائٹ زون‘ کا تصور بھی متعارف کرایا گیا ہے، جہاں امن و امان کی بحالی کے لیے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کیے جا سکیں گے۔ رائٹ زون کے نفاذ کے دوران نیک نیتی سے فرائض انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ قانون کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فسادات کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے نقصانات کی وصولی کو قانونی دائرہ کار میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح پرتشدد احتجاج کے منتظمین اور شرپسند عناصر کے لیے سخت اور اضافی سزائیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
ترجمان رائٹ مینجمنٹ پولیس کے مطابق یہ فورس ضلعی پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ کرتے ہوئے امن و امان کے قیام میں مؤثر معاون ثابت ہوگی۔
احتجاج کے نام پر تشدد نہیں چلے گا، نیا قانون نافذ،، پرتشدد احتجاج کے منتظمین بھی نشانے پر، اضافی سزائیں مقرر


