تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
گزشتہ روز قریبی ضلع کا ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر ملا اور کہنے لگا کہ دو دن سے نیند نہیں آ رہی ہم نے صاحب کی ڈی سی شپ بچانے کیلئے ان بے زبان کتوں کو بہت بے دردی سے مارا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ ایک ویران ایریا میں ایک کتیا اپنے نومولود بچوں کے ساتھ ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی میونسپل کمیٹی کا عملہ اس کے بچوں کو اٹھانے کیلئے آگے بڑھا تو اس نے اپنے بچوں کو ممتا میں چھپاتے ہوئے غرائی کہ میرے بچے مت چھینو، کتیا کے غرانے کی آواز سنتے ہی ٹیم نے فوری سے پہلے اس پر فائر کرتے ہوئے اسے ابدی نیند سلا دیا، ماں کو خون میں لت پت تڑپتے دیکھ کر اس کے بچے آسمان کی طرف دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے کہ اگلے ہی لمحے چلنے والی گولیوں نے ان بچوں کے آنسوٗوں کے سفید پانی کو سرخ خون میں بدل دیا۔
ایک اور اسسٹنٹ کمشنر نے دوسری منظر کشی کی کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ گئے اور گوشت کے ٹکرے پر زہر لگا کر کتوں کو کھانے کیلئے دیا گیا۔
جیسے ہی ان بے زبانوں کو گوشت کا ٹکڑا دیا وہ بھاگ کر لینے پہنچے، گوشٹ کا ٹکڑا منہ میں اٹھا کر چمکدار آنکھوں کے ساتھ دم ہلا کر شکریہ ادا کیا اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر چل پڑا، چند قدم چلتے ہی زہر کے اثر سے وہ تڑپتا ہوا مر گیا۔ میونسپل کمیٹی کے ایک سی ای او نے روتے ہوئے بتایا کہ اس نے زہر الود گوشت کا ٹکرا دیا تو کتا اس مہربانی کیلئے اس کے پاؤں میں آکر دم ہلانے لگا اور زہر لگا گوشت کھاتے ہی وہ تڑپتا ہوا مرگیا، کتا تو مرنے کے بعد اس تکلیف سے آزاد ہوگیا ہوگا لیکن وہ تب سے شدید تکلیف میں ہے کہ جو بے زبان ایک ٹکڑے کیلئے اسکے پاؤں میں آکر شکریہ ادا کر رہا تھا اسی کو قتل کردیا۔ بہت سارے افسران کا کہنا تھا کہ کتا مار مہم اور اس قتل ریزی میں انکو پہلی مرتبہ کتوں کا اتنے قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ کتنے اعلیٰ ظرف ہیں کہ روٹی یا گوشت کا ٹکڑا اٹھاتے ہی فوری شکریہ ادا کرتے ہیں۔
میڈم وزیراعلیٰ آپ کے صوبے سے کتنی بڑی ریاست کا حکمران تو یہ کہتا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر تمہیں اللہ کو حساب دینا ہوگا،
میڈم وزیراعلیٰ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی وزارت اعلیٰ میں ان بے زبانوں کے ساتھ جو بربریت اور خون ریزی کی جارہی ہے اس کیلئے اللہ کی ہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔
ڈی سی شب بچانے کیلئے بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں تھا بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔ لیکن ڈپٹی کمشنرز نے ویکسینیشن کی محنت اور زحمت کرنے کی بجائے قتل و غارت گری کا آسان حل نکال لیا۔ میں نے پنجاب کے تمام اضلاع سے جاننے والے اسسٹنٹ کمشنرز، سماجی تنظیموں اور میڈیا پرسنز سے رابطہ کیا تو انتہائی خوفناک ڈیٹا سامنے آیا۔
سب سے زیادہ رواں ماہ دسمبر میں لاکھوں کتوں کو مارا گیا۔ دسمبر میں بے زبان کتوں کو مارنے میں ساہیوال پہلے، مظفر گڑھ دوسرے، ملتان تیسرے، راولپنڈی چوتھے، لاہور پانچویں اور جھنگ چھٹے نمبر پر ہیں۔ جس تعداد میں اور جس بیہمانہ طریقے سے ان بے زبان کتوں کو مارا گیا ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں ہمیں بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں کوئی ریفرنس کام نہیں کرے گا۔
میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔

