واشنگٹن/تہران: ایران پر ہونے والا امریکی فضائی حملہ عملدرآمد سے چند منٹ قبل ہی روک دیا گیا۔ فوجی تجزیہ کار امیر بوہبوٹ کے مطابق، یہ حملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی مداخلت کے بعد منسوخ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ مشن اپنے آخری مرحلے میں تھا جب اسے اچانک روکنے کا حکم ملا۔قطر میں واقع ‘العدید ایئر بیس’ سے اڑان بھرنے والے امریکی طیاروں اور جنگی اثاثوں کو فوری طور پر واپس بیس پر پہنچنے اور ‘اسٹینڈ بائی’ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے جس کا نتیجہ فیصلہ کن نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں حملے کی منظوری دیں گے جب اس کا نتیجہ "واضح اور فیصلہ کن” ہو۔

