تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجاب پولیس کے شعبۂ موٹر ٹرانسپورٹ پر ہر سال اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود صوبے کے مختلف اضلاع کے تھانوں میں کھڑی خستہ حال گاڑیاں ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتی ہیں مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے یا نظام کی خرابی کا؟ فیلڈ میں تعینات اہلکار غیر محفوظ اور بار بار جواب دے جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی دینے پر مجبور ہیں، جبکہ نئی اور بہتر گاڑیوں کی بڑی تعداد دفاتر اور افسران کی رہائش گاہوں تک محدود رہتی ہے۔ یہ تضاد محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ براہِ راست پولیسنگ، ردِعمل کے وقت اور عوامی تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔ گاڑیوں کی تقسیم اور استعمال میں اختیار اور جواب دہی کا توازن بگڑ چکا ہے۔ نئی گاڑی اکثر فیلڈ کی ضرورت کے بجائے اختیار اور حیثیت کی علامت بن جاتی ہے۔ افسر کے تبادلے کے ساتھ ہی گاڑی عملی طور پر لاوارث ہو جاتی ہے، اور نیا افسر اسے ازسرِنو تیار کروانے کے لئے اپنی جیب سے تیار کرواتا ہے یا مرمت کے نام پر نئے بل بنواتا ہے یوں قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، جبکہ وہی گاڑی کچھ عرصے بعد دوبارہ ناکارہ ہو کر اسی فرسودہ نظام کے رحم و کرم پر آ جاتی ہے۔ اس کمزور ڈھانچے سے سب سے زیادہ فائدہ وہ عناصر اٹھاتے ہیں جو مرمت، اسپیئر پارٹس اور ٹھیکوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ڈرائیور، موٹر ٹرانسپورٹ عملہ اور کنٹریکٹر بخوبی جانتے ہیں کہ عارضی مرمت زیادہ منافع بخش ہے، دیرپا حل نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گاڑی کم درست ہوتی ہے اور کاغذی کارروائی زیادہ چلتی ہے۔ جب جواب دہی مبہم ہو تو ناجائز استعمال ایک معمول بن جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں ایک ناگزیر اصلاح یہ ہے کہ تمام سرکاری گاڑیوں میں جدید ٹریکر نصب کیے جائیں۔ اس کے ذریعے یہ معلوم ہو سکے کہ گاڑی کہاں استعمال ہوئی، کتنے کلومیٹر چلی اور اس دوران کتنا پٹرول یا ڈیزل خرچ ہوا۔ اس نظام سے نہ صرف ایندھن کے ضیاع پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ اس شکایت کا بھی مؤثر سدِباب ممکن ہے کہ بعض افسران یا ڈرائیور سرکاری گاڑیوں کا ایندھن ذاتی گاڑیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ٹریکر سے منسلک ڈیجیٹل ریکارڈ اور ایندھن کی نگرانی ناجائز استعمال کو محض الزام کے بجائے ثبوت کے دائرے میں لے آتی ہے۔ ماضی کی ایک عملی مثال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ سخت نگرانی اور واضح پالیسی نتائج دے سکتی ہے۔ لاہور میں بطور ایس پی ہیڈ کوارٹر تعینات رہنے والے ایس پی عبداللہ لک نے ایندھن کے استعمال پر سخت پالیسی نافذ کی، جس کے نتیجے میں ہر ماہ ہزاروں لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی بچت ممکن ہوئی۔ تاہم یہ اقدام سب کے لیے خوش آئند ثابت نہ ہوا، کیونکہ وہ افسران ناراض ہوئے جن کے لیے سرکاری گاڑی اور ایندھن ایک غیر اعلانیہ سہولت بن چکا تھا۔ یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ حقیقی اصلاحات اکثر مزاحمت کو جنم دیتی ہیں، مگر یہی مزاحمت درست سمت کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ مسئلے کا دیرپا حل محض بیانات یا دعوؤں میں نہیں بلکہ ڈھانچہ جاتی تبدیلی میں ہے۔ اگر سینیئر افسران کو گاڑیاں مستقل بنیادوں پر الاٹ کر دی جائیں اور ساتھ ماہانہ مقررہ مرمتی الاؤنس دیا جائے تو ذمہ داری واضح ہو جائے گی۔ تبادلے کی صورت میں افسر اپنی گاڑی ساتھ لے جائے تو وہ اسے ذاتی گاڑی کی طرح سنبھالے گا، ناجائز استعمال کی حوصلہ شکنی کرے گا اور گاڑی کی حالت برقرار رکھنے میں سنجیدہ رہے گا۔ اس ایک فیصلے سے نہ صرف بار بار کی مرمت کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ گاڑیوں کی عمر اور مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
اسی طرح تھانوں کے لیے گاڑیوں کا نظام افسران کی ذاتی الاٹمنٹ سے مکمل طور پر الگ ہونا چاہیے۔ فیلڈ وہ جگہ ہے جہاں گشت، فوری ردِعمل اور ہنگامی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ وہاں گاڑی کا ناکارہ ہونا محض ایک فنی خرابی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کے مترادف ہے۔ اس مقصد کے لیے کارکردگی پر مبنی نگرانی، ڈیجیٹل اندراجات، ٹریکر ڈیٹا اور باقاعدہ آڈٹ ناگزیر ہیں تاکہ ہر خرچ، ہر لیٹر ایندھن اور ہر مرمت کا مکمل حساب موجود ہو۔
ایک اور قابلِ عمل راستہ یہ ہے کہ مخصوص زمروں میں گاڑیاں معتبر کمپنیوں سے کرائے یا لیز پر حاصل کی جائیں۔ اس ماڈل میں دیکھ بھال اور دستیابی کی ذمہ داری کمپنی پر ہوتی ہے، جس سے سرکاری بجٹ پر دباؤ کم اور گاڑیوں کی عملی دستیابی بہتر ہو جاتی ہے۔ جب فیلڈ کو بروقت، محفوظ اور معیاری گاڑیاں میسر آئیں گی تو پولیسنگ کا معیار خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کتنی گاڑیاں خریدی گئیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کہاں، کیسے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوئیں۔ جب تک اختیار کے ساتھ جواب دہی، نگرانی اور شفافیت کو لازم نہیں کیا جاتا، اربوں روپے کے فنڈز بھی خستہ حال گاڑیوں میں تبدیل ہوتے رہیں گے۔ اگر موٹر ٹرانسپورٹ کو محض اخراجات کی مد کے بجائے پولیس کارکردگی کا بنیادی ستون تسلیم کر لیا جائے تو پنجاب پولیس کا چہرہ واقعی بدلا جا سکتا ہے۔


