تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
اہم عہدوں پر فائز افسران کے بچوں کی شادیوں پر اکٹھی ہونی والی چار سے پانچ ارب کی سلامیوں کے قصے ہفتوں زبان زد عام رہے۔ اس مشہوری نے افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ اکٹھا کرنے کی نئی راہ دکھا دی۔ ایک آفیسر کی شادی کیلئے گیسٹ لسٹ بن رہی تھی تو وہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے نام لکھ رہا تھا حتیٰ کہ ان کاروباری شخصیات کے بھی جن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی صرف گڈمارننگ کے میسجز والا تعلق تھا۔ ولیمے کیلئے کراچی ٹو خیبر تمام اہم شخصیات کے نام لکھے جارہے تھے میں نے اسے کہا کہ آپ اپنے بیج میٹ کے نام کیوں نہیں لکھ رہے اس نے فوراً سے پہلے جواب دیا کہ بھوکے ہیں انہوں نے کیا دینا۔

یہی افسران جو اپنی ذاتی شادی پر بھی غریب اور متوسط رشتہ دار اور دوستوں کو شادی پر اس لیے انوائیٹ نہیں کرتے کہ انہوں نے معمولی سلامی دینی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہنی غریبوں کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ کوئی بھی افسر جب کسی اچھی پوسٹنگ پر ہوتا ہے تو وہ اپنے بہن بھائی حتی کہ کزن، بھتیجی اور بھانجے کی شادی پر بھی امیر افراد کو صرف لیے انوائٹ کرتا ہے کہ سلامی اکٹھی ہوجائے گی۔ وزیراعظم آفس، ایوان صدر، وزیراعلیٰ آفس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں پوسٹڈ افسران سمیت اے سی، ڈی سی، کمشنر، سیکرٹری، ایس پی ،ڈی پی او، آرپی او جیسی اہم پوسٹنگ کے دوران مذکورہ افسران بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی شادی کے دعوت نامے بھی امیر دوستوں کو ہول سیل کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ کیونکہ ان سیٹوں پر دوست اور ساتھی افسران بھی کم از کم بیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک جبکہ کاروباری شخصیات دس لاکھ سے زائد کیش کے بینک چیک، لاکھوں روپے کے قیمتی جیولری سیٹ، نئی گاڑی، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکچ گفٹ کرتے ہیں۔
یوں شادیاں بھی پیسے اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے کی سلامی دینے والے اس انویسٹمنٹ کی ریکوری کیلئے کوئی کام لیکر جاتے ہیں تو اگر ہوجائے تو وہ ایک اور گفٹ دے آتا ہے نہ ہوتو ہر جگہ اس کی احسان فراموشی کی قصے عام کرتا ہے اس لیے افسران کو مشورہ ہے کہ آپ کے پاس کمانے کیلئے ہر روز مواقع ہوتے ہیں کم از کم شادی کے یادگار موقع کو کمائی کا اڈا بنا کر ان ذہنی غریب پراپرٹی ڈیلرز کو بلاکر ساتھی افسران اور معززین کو تو شدید رش میں خوار نہ کیا کریں۔ منشی اذہان افسر تو بن گئے لیکن اندر کی غربت کی ہاتھوں مجبور کوئی نہ کوئی ایسی چول حرکت ضرور کرتے ہیں کہ اچھی پوشاک بھی انکی اندرونی غربت کو چھپانے سے قاصر ہوتی ہے۔
کاروباری اور عہدوں کی شادیوں کا دوسرا پہلو بھی جدید دور کا فیشن بن چکا ہے جہاں کاروباری شخصیات اپنی کاروباری ضرورت کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، کسٹم، ایف بی آر، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، ایم ایل سی اور پی ایم ایس افسران میں سے بہو اور داماد تلاش کرتے ہیں۔ سی ایس ایس کے باقی گروپس کاروباری حضرات کیلئے فائدے کا سودا نہیں ہوتا اس لیے کاروباری برادری میں انکی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بیج میٹ کے ساتھ شادیوں میں زیادہ تر محبت اور پسند کا عنصر غالب ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پہلو ہے کہ آپ اپنی ہم آہنگی والے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی میں بہت ساری شادیاں سانولی اور قبول صورت کے ساتھ بھی صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ اس کی سلیکشن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس آف پاکستان میں ہوگئی ہے۔ ایک تہائی سے زائد بیوروکریٹس کی شادیوں کی ناکامی کی وجہ عہدوں اور کاروبار کی وقتی کشش کے لیے کیے جانے والے جذباتی فیصلے تھے۔
سیاست دانوں, کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران کی شادیوں میں قانون دان اور قانون پر عملداری کروانے والے دونوں کی موجودگی میں سر عام ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ملٹی ڈشز کے ساتھ اپنی شان و شوکت اور قانون کی اوقات بتائی جاتی ہے۔

