تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی فوجی کارروائی اور مبینہ طور پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے معاملے پر شدید سفارتی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں عالمی قوانین، خود دفاع کے دعووں اور دوہرے معیارات پر کھل کر سوالات اٹھائے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے مطابق رکن ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہنے کے پابند ہیں۔ تاہم امریکا نے اپنی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا، جو کسی رکن ریاست پر مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی خود دفاع کا حق تسلیم کرتا ہے۔
اس معاملے پر روس، چین اور کولمبیا نے امریکا کی فوجی کارروائی کو کھلے الفاظ میں غیر قانونی قرار دیا۔ بیشتر سلامتی کونسل کے اراکین نے واشنگٹن پر براہِ راست تنقید سے گریز کرتے ہوئے محض بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا، جسے ناقدین نے “خاموش سفارتکاری” سے تعبیر کیا۔
روسی مندوب برائے اقوامِ متحدہ، وسیلی نبینزیا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ
“آج وہی ممالک جو دیگر مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کے مطالبے پر منہ سے جھاگ اڑاتے ہیں، اصولی مؤقف اپنانے کے بجائے مبہم سرگوشیوں اور جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف منافقانہ بلکہ شرمناک بھی ہے۔”
کولمبیا، جس نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، نے واضح مؤقف اپنایا کہ امریکی اقدام وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ روس، چین اور وینزویلا نے مشترکہ طور پر امریکا سے مطالبہ کیا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے کسی عملی کارروائی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ امریکا سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں شامل ہے اور روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ویٹو پاور رکھتا ہے۔ یوں ایک بار پھر عالمی قانون، طاقت کی سیاست اور دوہرے معیار کے الزامات اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں گونجتے نظر آئے، جبکہ متاثرہ فریق انصاف کے لیے عالمی ضمیر کی طرف دیکھتا رہ گیا۔


