تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
ہزاروں سال پہلے کا مسلمہ اصول ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جب انسان جنگلوں میں رہتا تھا اس وقت بھی یہی اصول تھا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ جس پر چاہے قبضہ کر لے اور جو چیز جس سے مرضی چھین لے وہ اس کی ملکیت تصور کی جائے گی پھر انسانوں نے اس میں تھوڑی جدت پیدا کر لی دیگر انسانوں کو ساتھ ملا کر افرادی قوت بڑھا کر طاقت کا مظاہرہ شروع کر دیا پھر جنگی اوزار ہاتھی گھوڑے قلعے طاقت کی نشانی بن گئے لیکن بنیادی اصول وہی رہا جس کے پاس زیادہ طاقت تھی وہ جس سے جو چاہے چھین لے طاقتور ملک چھوٹے اور کمزور ملکوں کو ہڑپ کرنے لگے پھر وقت بدلا طاقت اور عقل کی ہم آہنگی نے منافقت کا روپ دھار لیا لفظوں کی ملمہ کاری نے ڈپلومیسی ایجاد کر لی ایک دوسرے کو لفظوں جوڑ توڑ اور دکھاوے کی کارروائیوں سے ڈرایا جانے لگا بات ایٹم بموں میزائلوں تک پہنچ گئی ویسے تو حضرت انسان نے عالمی امن بھائی چارے اور انسانی حقوق کے نام پر ادارے اور قوانین بھی وضع کر لیے بین الاقوامی معاہدے بھی سائن کر لیے لیکن یہ سارا کچھ کمزوروں کو جال میں پھنسانے کے لیے تھا آج بھی اگر حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو کمزور ملکوں اور قوموں کو عالمی قوانین کا پابند کرکے انھیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ طاقتور ملکوں اور قوموں کے لیے کوئی قانون اصول ضابطہ نہیں وہ ہر اقدام کو اپنا حق سمجھتے ہیں آج جبکہ انسانوں نے جانوروں کے حقوق کا بھی تعین کر رکھا ہے اور جانوروں کے حقوق کی پاسداری کرنے پر بھی انسانوں کے خلاف کارروائی ہو جاتی ہے وہیں پر انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بد تر سلوک کیا جاتا ہے کئی قوموں کو پابندیوں کے نام پر دو وقت کی روٹی سے محروم کر دیا جاتا ہے انسانی خون کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے پھول جیسے معصوم بچوں پر وحشیانہ بمباری کرکے طاقت کے اصول وضع کیے جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ترقی کرلی ہے سول لائزیشن آگئی ہے ہم سمجھتے ہیں آج کا انسان بھی اتنا ہی وحشی ہے جتنا جنگلوں میں رہنے والا انسان وحشی تھا فرق صرف اتنا آیا ہے کہ انسان نے منافقت میں ترقی کر لی ہے پہلے انسانوں میں منافقت کم تھی اس نے جو کرنا ہوتا تھا اعلانیہ کرتا تھا آج کا انسان خود ساختہ دلائل بہانے بناکر جسٹیفکیشن پیدا کرتا ہے اور ہر غیرقانونی کام کو دلائل کے ساتھ جائز قرار دے کر اپنے آپ کو حق پر ثابت کرکے ظلم کر رہا ہوتا ہے اور مظلوم کو ظالم ثابت کرکے کارروائی کا اس کو خود ذمہ دار قرار دلواتا ہے پہلے طاقت منہ زور ہوتی تھی وہ حیلوں بہانوں سے بےنیاز تھی آج طاقت کارروائی کے لیے پہلے ماحول بناتی ہے بہانے تراشتی ہے اور پھر کارروائی کرتی ہے ابھی تازہ ترین امریکہ نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کو زندہ کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور اس کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں اس کے محل سے گرفتار کر کے امریکہ پہنچا دیا ہے۔
امریکہ کے بقول اس میں چند سپاہی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ نیکولس مادورو کی سیکورٹی پر مامور 40 کے قریب افراد جان سے گئے ہیں وینزویلا کے صدر کے خلاف آپریشن ہالی ووڈ کی فلم کا سین لگتا ہے کہ کیسے ڈرامائی طور پر ایک ملک کے صدر کو اس کی رہائش گاہ سے بیوی سمیت اٹھالیا جائے وینزویلا کے صدر مضبوط جسم کے دراز قد خوبصورت پرسنیلٹی رکھنے والی شخصیت ہیں انھیں ٹریک سوٹ میں ہی پکڑ کر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کے کانوں پر ہیڈ فون کے کھوپے چڑھا کر لے جانے کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ ایک تو نیکولس مادورو کی بےبسی ظاہر کرنا اور دوسرا امریکی دہشت بڑھانا ہے امریکہ وینزویلا کے صدر کے ساتھ منشیات فروش یامنشیات فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے مجرم کی طرح کا سلوک کر رہا ہے وہ دنیا پر اپنی نفسیاتی برتری کا خوف برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دنیا کو باور کروانا چاہتا ہے کہ وہ آج بھی سپر پاور ہے وہ دنیا میں جہاں چاہے جس طرح کی چاہے کارروائی کر سکتا ہے وہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو جس طرح جہازوں پر گھما رہا ہے نیویارک اور بروکلن کے حراستی مرکز میں لے جاتے ہوئے اس کی تصاویر بنا کر شئیر کی جا رہی ہیں یہ اسے ذلیل کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے وہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ہم نے وینزویلا کے صدر کو سمجھایا تھا کہ وہ منشیات کو امریکہ جانے سے روکے اس نے نہیں روکا تو وہ ہمارا ملزم تھا ہم اس کے ساتھ ملزموں والا سلوک کر رہے ہیں اس سے قبل امریکہ 1989 میں پانامہ کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو بھی ایک فوجی کارروائی میں گرفتار کر کے امریکہ لے گیا تھا اور وہاں حکومت بدل دی تھی وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے پیچھے بھی وینزویلا کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا اور وہاں امریکہ کی پروردہ حکومت لانا مقصود ہے تاہم امریکہ کو تاحال وینزویلا میں من پسند مہرہ نہیں مل رہا وینزویلا کی سپریم کورٹ نے نائب صدر ڈیلسی روڈ ریگیز کو عبوری صدر بنا دیا ہے وہ جدوجہد کرنے والی نظریاتی خاتون ہیں اور صدر نیکولس مادورو اسے شیرنی کا خطاب دے چکے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ امریکہ کی پروردہ حکمران بن کر امریکہ کے عمل دخل کو آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں یا کھٹن راستے کا انتخاب کرکے وینزویلا کی خودمختاری کی جنگ لڑتی ہیں امریکہ نے تو دھمکی دے دی ہے کہ اگر وہ ہماری بات مانیں گی تو ٹھیک ورنہ اس کا انجام بھی صدر جیسا ہو گا دوسری جانب وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مریا کورینا مچاڈو جنھیں پچھلے سال ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں نوبل امن ایوارڈ ملا ہے اور انھیں 2024 کے انتخابات میں الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا وہ روپوش تھیں بلکہ امن ایوارڈ کے لیے ان کا انعام لینے کا سفر بھی ایک پر اسرار ڈرامائی کہانی ہے جس میں وہ چھپتے چھپاتے سمندری جہاز اور لانچ بدل بدل کر انعام لینے پہنچیں تھیں ان کی زندگی بھی جدوجہد سے عبارت ہے دیکھنا یہ ہے کہ وینزویلا کی نائب صدر یا اپوزیشن لیڈر دونوں میں سے کون امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتی ہیں امریکہ کا وینزویلا آپریشن دراصل امریکہ کی توسیع پسندانہ عزائم کا شاخسانہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ علاقے کے مختلف ملکوں کو خریدنے ضم کرنے اور مختلف طریقوں سے قبضہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں انھوں نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ مونرو ڈاکٹرائن پر کاربند ہیں جو 19 ویں صدی میں امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ تھی امریکی صدر تھیوڈور اور روز ویلٹ نے اسی ڈاکٹرائن کو وسعت دی تھی ہمارے دوست ماہر فلکیات ہمایوں افضل نے تو چند دن پہلے ہی پشین گوئی کی تھی کہ 2026 میں دنیا کے مختلف ملکوں میں حکومتیں تبدیل ہوں گی یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کا بہانہ بنا کر پوری دنیا میں کس قسم کی کارروائیاں کیں عراق میں خطرناک اسلحہ کی موجودگی کا بہانہ بنا کر صدام کو پھانسی پر لٹکا دیا اور عراق کو تباہ کر دیا یہی کچھ لیبیا کے ساتھ کیا وہاں کے عوام اب رو رہے ہیں شام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا افریقہ ایشیا کے ملکوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے یہ سب طاقت کے اصولوں کے مطابق ہو رہا ہے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام طاقت کی پشت پناہی سے اسرائیل نے 70 ہزار بےگناہ انسانوں کو مار دیا پوری دنیا چیختی رہ گئی لیکن کسی کے کان تک جوں بھی نہ رینکی ایران افغانستان کے ساتھ کیا ہوا سب لاٹھی والے قانون کے تحت ہوا اور کہیں بھی انسانیت کا پاس نہیں کیا گیا سوچنے کا مقام ہے کہ کیا طاقت کا استعمال ایسے ہی ہوتا رہے گا یا کبھی انسانوں کو اشرف الخلوق ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا


