پشاور:خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی خیبر پختونخوا مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس اتوار کو گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کونسل کے تمام ارکان نے اپنا تعارف اور اپنے اپنے محکموں سے متعلق ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے امن کی بحالی کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کل یعنی پیر کو ایپکس کمیٹی کی میٹنگ ہوگی، جس میں دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کونسل کے ارکان کو مبارکباد دی اور کہا کہ انھیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ارکان کو اپنے محکموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور انھیں ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے چند روز کا وقت بھی دیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ صوبے کے معاملات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہوگا، کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور تمام کام بروقت مکمل کیے جائیں گے۔ ان کے بقول نئی انتظامیہ کو اپنی کارکردگی سے واضح طور پر سابقہ انتظامیہ سے مختلف نظر آنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ مشاورتی کونسل کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے دیگر صوبوں کے کامیاب تجربات سے بھی رہنمائی لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے موجودہ حالات کو ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کا مثبت اور نرم تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے میں امن قائم ہو جائے تو سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انھوں نے کونسل ارکان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے ان کے لیے دستیاب ہیں۔
عوام کے نام اپنے پیغام میں گورنر نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے باعث آئین کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ انھوں نے سیاسی الزام تراشی اور بیانات سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد پیغام یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن، تحفظ اور استحکام بحال کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انھیں پائیدار امن فراہم کیا جائے۔ ان کے بقول ریاست کی جنگ دہشت گردی، اس کی پشت پناہی کرنے والی سوچ اور ان نیٹ ورکس کے خلاف ہے جو قانون کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ پشتون دہشت گردی کا سبب نہیں بلکہ اس کے سب سے بڑے متاثرین ہیں، اسی لیے ریاست نے عزم کر رکھا ہے کہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور عوام کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح امن کا تحفظ اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ حکومت کی اصل آزمائش بیانات نہیں بلکہ عوامی خدمت ہوتی ہے۔ اسی لیے مشاورتی کونسل صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے گی تاکہ عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس، بڑے فیصلے?

