نارویجن نوبیل کمیٹی نے سال 2026 کے نوبیل امن انعام (Nobel Peace Prize) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ رواں برس یہ اعلیٰ عالمی اعزاز جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی رہنما نوانیتھم "ناوی” پلے (Navi Pillay) کے نام رہا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر امن کے نوبیل انعام کی خواہش اور متوقع نامزدگیوں کی خبروں کے باوجود نوبیل کمیٹی نے عالمی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کو ترجیح دی۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے کو یہ انعام بین الاقوامی قانون کی پاسداری، جنگی جرائم کے احتساب، نسل کشی کی روک تھام اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی دہائیوں پر محیط بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ 87 سالہ ناوی پلے جنوبی افریقا میں اپارتھائیڈ (نسلی بنیاد پر مبنی نظام) کے خلاف قانونی جدوجہد کی پیش رو رہی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی اعلیٰ کمشنر (UN High Commissioner for Human Rights) اور بین الاقوامی عدالت برائے روانڈا کی جج بھی رہ چکی ہیں۔نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ عالمی سطح پر جنگوں اور تنازعات کے دور میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور عدالتوں کی خودمختاری قائم رکھنا ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف مواقع پر نوبیل امن انعام کی خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم نوبیل کمیٹی نے اس بار بھی کسی سیاسی شخصیت کے بجائے انسانی حقوق اور عالمی قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنے والی قانونی شخصیت کا انتخاب کیا۔
ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوسکی، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام

