نئی دہلی ، کیلے فورنیا :ایلون مسک نے حال ہی میں جب یہ بیان دیا کہ انڈیا میں چند بڑے کاروباری نام سٹار لنک کی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کے راستے کی رکاوٹ بن رہے ہیں تو ملک میں جیسے کھلبلی مچ گئی۔ایک جانب جہاں انڈیا کی حکومت کو اس الزام پر باضابطہ تردید جاری کرنا پڑی تو دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہل گاندھی ان کی حمایت میں میدان میں کود پڑے۔
بات بڑھی تو ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان میں یہ تک لکھ دیا کہ ’کیا انڈیا کا اصلی باس امبانی ہے؟‘ یاد رہے کہ مکیش امبانی انڈیا کے امیر ترین کاروباری گروپ کے مالک ہیں۔
اس پیغام کے جواب میں انڈیا کے اپوزیشن رہنما کانگریس پارٹی کے راہل گاندھِی نے لکھا ’آپ کو انڈیا میں خوش آمدید۔‘
یہ تنازع کیا ہے؟
وزارت مواصلات نے 8 اکتوبر کو کہا کہ انڈیا کا سیٹلائٹ کمیونیکیشن ریگولیٹری نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔حکومت کے مطابق، سٹار لنک سمیت تین کمپنیاں اس وقت سیکیورٹی چیک کے ایک ہی ریگولیٹری مرحلے میں ہیں۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے یہ بھی کہا تھا کہ ’بدقسمتی سے، ہمیں کچھ صنعتکاروں کی جانب سے انڈیا کی عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے روکا جا رہا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔۔۔ یہ انڈیا کے لوگوں کے خلاف ایک جرم ہے۔‘ایلون مسک کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں لکھا گیا کہ انڈیا کے کئی دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
سٹار لنک کا دعویٰ ہے کہ اس کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ان علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر سکتی ہے جہاں فائبر یا موبائل نیٹ ورکس تک پہنچنا مشکل ہے۔
وزارت مواصلات نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ’انڈیا کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے ضوابط منصفانہ اور سب کے لیے برابر ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جا رہی ہے، جو انڈیا کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے ضوابط کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان ضابطوں کو امتیازی طریقے سے لاگو کیا جا رہا ہے۔‘

