ماسکو :ترکمانستان سے روسی خبر رساں ذرائع نے خبر دی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران۔امریکہ جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے روس ’تمام ضروری اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہے۔
خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق پوتن کا کہنا تھا کہ ’آپ ہمارے مؤقف سے واقف ہیں۔ ہم اپنی طرف سے، اس صورتحال کے حل میں مدد کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہیں۔‘
پوتن اور مسعود پزشکیان بحیرۂ کیسپین سے ملحق ممالک کے سربراہی اجلاس اور دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لیے ترکمانستان میں موجود ہیں۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایران اس تنازع کے خاتمے کے لیے حقیقی کوششیں کر رہا ہے، ایک ایسا تنازع جس کے شروع ہونے میں ایران کی کوئی غلطی نہیں۔‘
پوتن نے ایران اور روس کے تعلقات میں ’مثبت پیش رفت‘ کی بھی نشاندہی کی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ملاقات کے دوران مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتا ہے، لیکن ہم پھر بھی بات چیت اور مذاکرات کی میز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بارے میں کہا ’ہم نے کچھ تجاویز پیش کی تھیں اور امریکیوں نے بھی نئی تجاویز دی تھیں۔ ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم شامل کی ہیں۔ ان کے حتمی ہونے کے بعد، ہم موجودہ روابط کے ذریعے بیٹھ کر ان کا خلاصہ مرتب کریں گے۔‘
’ہماری کوشش ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ایرانی عوام کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے، لیکن اگر امریکہ یکطرفہ طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق ایران صدر کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت میں مصروف ہیں اور تین نومبر کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی صورت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی روسی ہم منصب سے اہم ملاقات; صدر پیوٹن کی ایران کو بڑی پیشکش

