ریاض: یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں سعودی قومی فضائی کمپنی کے ایک مسافر طیارے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سمیت کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے ریاض کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق، ریاض ہوائی اڈے پر موجود عینی شاہدین اور باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو ہونے والے حملوں کے دوران ٹرمینل 4 پر کھڑے سعودیہ کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا اور آگ لگنے کے باعث وہ شدید متاثر ہوا۔ حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کا دعویٰ ہے کہ ہوائی اڈے کی طرف داغے جانے والے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے پر سعودی حکومت کے میڈیا دفتر، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سعودی عربین ایئرلائنز کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
پی آئی اے کی پروازیں معطل
خطے کی کشیدہ صورتحال اور حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے بھی فوری قدم اٹھاتے ہوئے ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات اور مسافروں کی سکیورٹی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایئر لائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے پی آئی اے کے ہیلپ لائن نمبر 786-786-111 پر رابطہ کریں۔
یاد رہے کہ اس حملے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی سعودی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے

