پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے گذشتہ روز بلائے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں، ایسے میں گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بلا کر اجلاس منعقد کرنا آئین اور جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ کار موجود ہے جس کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے، تاہم ’کسی کو جمہوری نظام پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’خیبر پختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں۔‘
پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سپیشل برانچ کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 22 برسوں میں 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا، جس سے موجودہ پالیسیوں کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر صوبے کے سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کے مطابق پالیسی اختیار کی جائے تو 100 روز میں امن کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے انضمام اور مالی وسائل کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت پر تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ 2018 میں انضمام کے باوجود قبائلی اضلاع کو طے شدہ مالی حقوق نہیں مل سکے، جبکہ شدت پسندی اور فوجی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کے معاوضوں کی مد میں اربوں روپے اب بھی واجب الادا ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر افراد اور متاثرین کی معاونت کے لیے اپنے وسائل استعمال کر رہی ہے اور حکومت سنبھالنے کے بعد اب تک اس مقصد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
آئی جی اور چیف سیکریٹری کسی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں: سہیل آفریدی

