امرود ایک بہترین اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے جسے طبی ماہرین ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے "سپر فوڈ” قرار دیتے ہیں۔ خصوصا گلابی امرود نہ صرف ذائقے میں بہترین ہوتا ہے بلکہ اپنی خاص غذائی صلاحیتوں کی وجہ سے صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ امرود کا گلائسیمک انڈیکس 12 سے 24 کے درمیان ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے کھانے سے خون میں شوگر کی سطح یکدم نہیں بڑھتی۔ امرود میں موجود ڈائیٹری فائبر کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جس سے انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے وزن پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور امرود میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔گلابی امرود میں سفید امرود کے مقابلے میں چند اضافی غذائی اجزا پائے جاتے ہیں:گلابی امرود کی سرخ یا گلابی رنگت اس میں موجود طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ‘لائکوپین’ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ جسم کے خلیات کو آکسیڈیٹیو تنا سے بچاتا ہے اور کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ لائکوپین اور پوٹاشیم کی موجودگی خون کی شریانوں کو صحت مند رکھتی ہے، خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرتی ہے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہے۔ گلابی امرود میں وٹامن سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو مالٹے کی نسبت تقریبا چار گنا زیادہ ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر موسم گرما اور سرما کے انفیکشنز سے بچاتا ہے۔ وٹامن اے اور سی کی بدولت گلابی امرود جلد کو تر و تازہ رکھتا ہے اور وقت سے پہلے بڑھاپے کے اثرات کو روکتا ہے۔ یہ قبض، بدہضمی اور معدے کے دیگر مسائل کا قدرتی علاج ہے۔ فائبر کی زیادتی کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس سے بار بار بھوک نہیں لگتی۔ امرود کے پتوں کا جوشاندہ/چائے کھانے کے بعد خون میں شوگر کے اضافے کو روکنے اور ماہواری کے درد کو کم کرنے میں انتہائی موثر پایا گیا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ ایک درمیانے سائز کا امرود کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ امرود کو نہار منہ یا رات کو سوتے وقت کھانے کے بجائے دن کے وقت یا دوپہر کے کھانے کے کچھ دیر بعد کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔اگر امرود تازہ ہو تو اسے چھلکے سمیت کھائیں کیونکہ اس کی چھال میں بھی فائبر موجود ہوتا ہے۔

