وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب قافلہ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور روانہ ہو گا۔
کوہاٹ سے روانگی کے موقع پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل منصوبے کے تحت قافلے نے پشاور جانا تھا، تاہم خیبر کے عوام کی درخواست پر شیڈول تبدیل کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’کل جو پشاور سے چارسدہ کا پلان تھا اس کو تھوڑا تبدیل کر دیا ہے کیونکہ خیبر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم ان مہمانوں کی مہمان نوازی کریں گے، تو کل خیبر جائیں گے، پھر اس کے بعد پشاور جائیں گے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو پُر امن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے لانگ مارچ کو کرکٹ میچ سے تشبیہ دی۔
انھوں نے کہا: ’ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوور باقی ہیں اور بہت سے کھلاڑی بھی باقی ہیں۔ آرام آرام سے کھیلیں گے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے بنیادی مطالبات میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے علاج کی سہولت، اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کا حق اور ان کی ’انصاف کے مطابق رہائی‘ شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، جس کے بعد احتجاج کا راستہ اپنایا گیا۔
انھوں نے زور دیا کہ لانگ مارچ کا مقصد پُر امن انداز میں احتجاج ریکارڈ کرانا ہے اور کارکن کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔

