تحریر :مہتاب نصیر اعوان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر زندگی پر ان کے احسانات خون کے رشتوں سے کم بھی نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں چند برس کے لیے آتے ہیں، لیکن ان کی باتیں، ان کی نصیحتیں اور ان کی دی ہوئی تربیت عمر بھر ہمارے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ ان میں سے ایسا ہی ایک رشتہ "استاد” کا ہے۔
آج 5 اکتوبر ہے، جو کہ یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آج کا دن ان عظیم شخصیات کے نام ہے جو نسلوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ دن محض ایک رسمی دن نہیں، بلکہ اپنے محسنوں کو یاد کرنے کا ایک موقع ہے۔
ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی زندگی میں کسی استاد کا کردار نہ ہو۔ کوئی استاد ایسا ہوگا جس نے پہلی مرتبہ ہاتھ پکڑ کر الفاظ لکھنا سکھائے ہوں گے، کسی نے مشکل سبق کو آسان بنایا ہوگا، کسی نے امتحان کے خوف کو حوصلے اور جرات میں بدلا ہوگا اور کسی نے شاید ایک ڈانٹ کے ذریعے ہمیں ایسی غلطی سے بچایا ہوگا جس کا احساس ہمیں آج سال بعد ہو رہا ہے۔
طالب علمی کے زمانے میں استاد کی ڈانٹ بہت بڑی سزا محسوس ہوتی تھی ۔ کلاس میں کھڑا ہونا، ہوم ورک مکمل نہ ہونے پر ڈنڈے پڑنا یا غلط جواب پر استاد کی سختی دیکھنا اس وقت شاید اچھا نہیں لگتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ،ساتھ اب سمجھ آتی ہے کہ وہ ڈانٹ نفرت نہیں تھی، بلکہ ہمارے بہتر مستقبل کی فکر تھی۔ استاد کی سختی میں بھی ایک عجیب سی شفقت چھپی ہوتی ہے۔ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، وہاں پہنچنے میں ہمارے والدین کی دعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ کی محنت بھی شامل ہے۔ والدین نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تو استاد نے اسی انگلی میں قلم پکڑنا سکھایا۔ والدین نے زندگی دی تو استاد نے اس زندگی کو مقصد اور سمت دینے کی کوشش کی۔
ایک اچھا استاد صرف کتاب کے صفحات نہیں پڑھاتا بلکہ وہ انسان کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ طالب علم کے چہرے پر چھپی پریشانی کو بھی محسوس کرتا ہے، اس کی کمزوری کو بھی سمجھتا ہے اور اس کے اندر چھپی صلاحیت کو بھی تلاش کرتا ہے۔ کئی مرتبہ ایک استاد کا صرف ایک جملہ کسی طالب علم کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔دنیا میں بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے والے لوگ شاید اپنے سفر کی ہر منزل یاد نہ رکھ سکیں، مگر انہیں وہ استاد ضرور یاد رہتا ہے جس نے کبھی انہیں پہلی مرتبہ یہ یقین دلایا تھا کہ "تم کر سکتے ہو۔” یہی استاد کی اصل طاقت ہے۔آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی استاد کی محنت کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں مہارت ہے تو کسی استاد نے اسے علم دیا، انجینئر نے عمارت کھڑی کی تو کسی استاد نے اسے حساب اور سائنس سمجھائی، صحافی قلم اٹھاتا ہے تو کسی استاد نے اسے الفاظ کا استعمال اور چناؤ سکھایا، اور کوئی اچھا انسان معاشرے میں اچھائی پھیلاتا ہے تو اس کے کردار کی تعمیر میں بھی کسی استاد کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات استاد کو صرف ایک ملازم سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ ایک استاد بیک وقت درجنوں، سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچوں کے مستقبل پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی کلاس میں بیٹھا ہوا ایک بچہ کل کسی ادارے کا سربراہ بھی بن سکتا ہے، کسی عدالت میں انصاف کی کرسی پر بھی بیٹھ سکتا ہے، کسی ہسپتال میں زندگی بھی بچا سکتا ہے یا ملک کی کسی سرحد پر وطن کی حفاظت کے فرائض بھی سر انجام دے سکتا ہے۔ اس لیے استاد کی عزت دراصل اپنے مستقبل کی عزت ہے۔
ہماری دینی اور تہذیبی روایات میں بھی علم اور اہلِ علم کو ہمیشہ بلند مقام حاصل رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تعلیم و تربیت کے ذریعے ایک ایسی جماعت تیار فرمائی جس نے دنیا کو علم، اخلاق، عدل اور انسانیت کا راستہ دکھایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا علم حاصل کرنے کا شوق اور رسول اکرم ﷺ کے سامنے ان کا ادب ہمارے لیے ہمیشہ ایک مثال اور مشعلِ راہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کتابیں پڑھنے کا نہیں بلکہ استاد کا ادب کرنے کا بھی درس دیں۔ انہیں بتائیں کہ استاد سے اختلاف ہو سکتا ہے، سوال بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن بے ادبی کسی صورت علم کا راستہ نہیں بن سکتی۔ اور استاد کا احترام صرف طالب علمی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کئی برس بعد جب بالوں میں سفیدی اتر آئے، جب ہاتھ میں قلم کی جگہ لاٹھی آ جائے، جب انسان اپنی زندگی میں کچھ مقام حاصل کر لیا جائے، تب بھی اگر کسی چوک پر، کسی بازار میں یا کسی تقریب میں اپنا پرانا استاد نظر آ جائے تو قدم خود بخود رک جانے چاہئیں نہ صرف قدم رکنے چاہیے بلکہ سلام میں پہل ہونی چاہیے۔ خیریت دریافت کرنی چاہیے اور دل سے یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ وہ محسن ہے جس نے میری زندگی کے سفر میں کبھی میرے ہاتھ سے قلم نہیں چھیننے دیا۔
مجھے ہمیشہ یہ بات بہت خوبصورت لگتی ہے کہ استاد اپنے شاگرد کی کامیابی دیکھ کر اپنے لیے کسی تمغے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اسے سب سے بڑا انعام یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کا شاگرد اچھا انسان بن گیا، اپنے والدین کا نام روشن کر رہا ہے اور معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ شاید اسی لیے استاد کا دیا ہوا علم ایک ایسا قرض ہے جو کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا۔
ہم اپنے اساتذہ کو تحفے دے سکتے ہیں، انہیں سلام کر سکتے ہیں، ان کے لیے تقریبات منعقد کر سکتے ہیں، ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا سکتے ہیں، لیکن ان کا حقیقی شکریہ تب ادا ہوگا جب ہم ان کی سکھائی ہوئی اچھی باتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں گے۔
آج یومِ اساتذہ کے موقع پر ہمیں اپنے ان تمام اساتذہ کو یاد کرنا چاہیے جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان کو بھی جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
کسی استاد کی آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہوگی۔ کسی کی ڈانٹ آج بھی یاد ہوگی۔ کسی کی شفقت آج بھی دل کو چھوتی ہوگی۔ اور کسی کا دیا ہوا ایک جملہ شاید آج بھی زندگی کا سہارا بنا ہوا ہو۔
ایسے تمام اساتذہ کو سلام۔ان ہاتھوں کو سلام جنہوں نے ہمارے ہاتھوں میں قلم دیا۔
ان آنکھوں کو سلام جنہوں نے ہمارے مستقبل کے خواب دیکھے۔
ان لبوں کو سلام جنہوں نے ہمیں لفظوں کا شعور دیا۔
اور ان دلوں کو سلام جنہوں نے ہزاروں بچوں کو اپنا سمجھ کر ان کے مستقبل کی فکر کی۔
استاد ایک فرد نہیں، ایک نسل کی تعمیر کا نام ہے۔
آئیں آج کے دن اپنے اساتذہ کو صرف مبارک باد نہ دیں، بلکہ ان کی قدر کرنے کا عہد بھی کریں۔ جو استاد ہمارے درمیان ہیں، ان کی عزت کریں، ان کی خیریت پوچھیں اور ان سے دعائیں لیں۔ جو ہم سے بچھڑ چکے ہیں، ان کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ وقت گزر جاتا ہے، عمارتیں بدل جاتی ہیں، کتابیں پرانی ہو جاتی ہیں، کلاس روم خالی ہو جاتے ہیں، مگر ایک استاد کی دی ہوئی تعلیم اور تربیت انسان کے کردار میں زندہ رہتی ہے۔
یومِ اساتذہ کے موقع پر میرے تمام اساتذہ کرام کو سلامِ عقیدت۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کو عزت، صحت اور خوشیوں بھری زندگی عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ۔
یاد رکھیں!
استاد کا احسان لفظوں سے نہیں، کردار سے چکایا جاتا ہے۔کیونکہ”استاد صرف پڑھاتا نہیں بلکہ نسلیں بناتا ہے۔”


