تحریر :حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آج ٹیچرز ڈے ہے اور اس حوالے سے آج والے دن کو ” سلام ٹیچرز ڈے” بھی کہا جاتا ہے۔آج کے دن کی مناسبت سے حکومت ان لوگوں کو ایوارڈ دیگی اور سیلوٹ مارے گی جنکی حکومتی اقدامات کی وجہ سے عملی زندگی اور معاشرے میں اب کوئی وقعت ہی نہیں رہی۔ انکی پینشنز پر کٹ لگا کر، انکی لیو انکیشمنٹ کو بند کرکے اور انکی دیگر مراعات میں کمی کیساتھ ساتھ انکے بنے بناۓ اور سنوارے ہوۓ اسکولوں کو بند کرکے اوپر سے یہ ایوارڈ دینے کا ڈرامہ چہ معنی دارد۔انہیں مختلف ڈیوٹیوں کے نام پہ ذلیل و رسوا کرنا اور انہیں ایسے ایسے کام کرنے کیلئے کہنا جو انکے فرائض میں ہی شامل نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہی ایوارڈ ان کیلئے کافی ہیں۔دوسری طرف ظلم یہ کہ ایوارڈ بھی ان ٹیچرز کو دیا جاتا ہے جنکا کارکردگی کے لحاظ سے ایوارڈ بنتا ہی نہیں۔پوزیشن ہولڈر طلبہ کی کلاس کو پڑھانیوالے چار یا پانچ ٹیچرز ہوتے ہیں۔ان میں جنرل ٹیچرز بھی ہوتے ہیں اور سائنس ٹیچرز بھی لیکن بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ صرف انچارج کلاس کیلئے ہی کیوں! اسے ایوارڈ صرف اس لئے دیدیا جاتا ہے کیونکہ وہ انچارج کلاس ہے حالانکہ اہمیت سب سبجیکٹس کی ہوتی ہے۔اسی حوالے سے انچارج کے علاوہ باقی ٹیچرز بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ایک ٹیم ورک ہے۔ٹیم اگر کام نہ کرے تو اکیلا انچارج کیا کر سکتا ہے۔ پھر کلاس انچارج ہی بیسٹ ٹیچر کیوں؟ ایوارڈ دینا ہے تو کلاس کے سب ٹیچرز کو دو ورنہ یہ دوسرے ٹیچرز کی حق تلفی ہے، نا انصافی ہے اور مساوات کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔


