واشنگٹن / جکارتا:جدید جنگی ٹیکنالوجی میں ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی فوج نے جنگ کے میدان کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ انڈونیشیا کے گھنے جنگلات میں کی جانے والی حالیہ عسکری مشقوں کے دوران اسمارٹ فونز، جدید ڈرونز اور آپس میں جڑے ہوئے ریڈیو سسٹمز پر مشتمل ایک نئے لائیو جنگی نظام کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب ہر سپاہی میدانِ جنگ کے ڈیجیٹل نقشے پر ایک لائیو نقطے کی طرح نظر آئے گا۔
رپورٹس کے مطابق ان مشقوں کے دوران ایک سارجنٹ نے اپنے سینے پر لگے ڈیجیٹل نقشے کی مدد سے محض 30 سیکنڈز کے اندر طبی امداد (میڈیکیف) کے لیے اترنے کی جگہ تلاش کر لی، جبکہ وہ کمانڈ پوسٹس جنہیں چلانے کے لیے پہلے خیموں میں 300 افراد کی ضرورت پڑتی تھی، اب چند منسلک گاڑیوں کے ذریعے انتہائی تیزی سے چلائی جا رہی ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس جدید نیٹ ورکنگ سسٹم نے دشمن کے ہدف کی نشاندہی کرنے سے لے کر اس پر فائرنگ کرنے کے وقت کو گھنٹوں سے کم کر کے صرف چند منٹوں تک محدود کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے اس منصوبے کو مزید وسیع پیمانے پر پھیلانے کے لیے آئندہ سال کے بجٹ میں 3.8 ارب ڈالر کی مانگ کی گئی ہے۔
ڈرون وارفیئر کے اس دور میں فتح اسی کو ملتی ہے جو دشمن کو سب سے پہلے دیکھ لے، اور یہ ٹیکنالوجی میلوں دور بیٹھے کمانڈر کو اور سامنے لڑنے والے دستے کو ایک ہی لائیو سکرین پر لے آتی ہے۔
البتہ، جنگلی مشقوں کے دوران ریڈیو سسٹمز کو ریبوٹ کرنے اور اسمارٹ فونز کے گرم ہو جانے جیسے چھوٹے تکنیکی نقائص (بگز) بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں اصل معرکے سے پہلے درست کرنا فوج کی اولین ترجیح ہے۔
مستقبل کی جنگ کا نقشہ بدل گیا: امریکی فوج کا ہر سپاہی ڈیجیٹل ،جنگلوں میں جنگی مشقیں

