رياض / واشنگٹن:برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ (FT) کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے چین کے اس معروف ڈیجیٹل کرنسی پروجیکٹ سے خاموشی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جو امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر بین الاقوامی ادائیگیوں کا نیا نظام قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
’ایم برج‘ (mBridge) نامی یہ بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارم مرکزی بینکوں کو براہِ راست ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ روایتی امریکی ڈالر زدہ نظام (جیسے کہ سوئفٹ) اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے اخراجات سے جان چھڑائی جا سکے۔ سعودی عرب نے 2024 میں امریکہ کے دیرینہ حلیف کی حیثیت سے چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) کے ساتھ مل کر اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تاہم، اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاض اس سال کے آغاز میں ہی اس پروجیکٹ سے دستبردار ہو چکا ہے۔
اگرچہ سعودی مرکزی بینک (SAMA) نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ان کے "پہلے سے طے شدہ منصوبے” کا حصہ تھا اور انہوں نے 13 مئی 2025 کو کامیابی کے ساتھ اپنا ’پروف آف کانسیپٹ‘ مکمل کرنے کے بعد اس پلیٹ فارم کو چھوڑا، لیکن ماہرین اسے عالمی سطح پر امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں برکس (BRICS) ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے ڈالر کے متبادل نظام کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن کے حکام خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ممالک روایتی امریکی پابندیوں اور مالیاتی نظام سے بچنے کی راہ تلاش کر سکتے ہیں۔
کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ایشور پرساد کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک اس طرح کے ڈیجیٹل مالیاتی پروجیکٹس کو اپنی معیشت کے لیے تو فائدہ مند سمجھتے ہیں تاکہ ڈالر پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کیا جا سکے، لیکن وہ واشنگٹن کی طرف سے آنے والے شدید ردعمل اور دباؤ سے بھی بخوبی آگاہ اور حساس ہوتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب نے بظاہر پروجیکٹ مکمل کرنے کا کہہ کر اس تنازع سے نکلنے میں عافیت جانی ہے، تاہم پس پردہ مالیاتی روابط اب بھی جاری ہو سکتے ہیں۔
امریکا کے ساتھ جانے کا فیصلہ،سعودی عرب نے چین کے ڈیجیٹل کرنسی پروجیکٹ ’ایم برج‘ سے علیحدگی اختیارکرلی،فنانشل ٹائمز

