تحریر : ایڈوکیٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کسی بھی معاشرے میں ایمرجنسی سروس کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی انسان کی زندگی خطرے میں ہو۔ حادثہ ہو، اچانک طبیعت خراب ہو جائے، کوئی شخص بے ہوش ہو جائے یا کسی مریض کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پیش آئے، ایسے وقت میں متاثرہ خاندان کو سب سے پہلے جس سہولت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بروقت ایمبولینس ہے۔
ضلع عمرکوٹ میں ریسکیو 1122 ایمبولینس سروس بھی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایمرجنسی کے وقت ایمبولینس بروقت نہ پہنچے تو اس سہولت کا عملی فائدہ عوام کو کس حد تک حاصل ہو رہا ہے؟
عمرکوٹ ایک وسیع جغرافیائی ضلع ہے، جہاں عمرکوٹ شہر کے علاوہ کنری، سامارو، پتھورو، شادی پلی، ڈھورونارو، نبی سر روڈ، ٹالہی اور متعدد دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ آباد ہیں۔ ان علاقوں میں حادثات اور طبی ہنگامی صورتحال کسی ایک جگہ تک محدود نہیں۔ ایسے میں ایمبولینس سروس کا مؤثر اور فوری ہونا انتہائی ضروری ہے۔
عوامی شکایات یہ ہیں کہ 1122 پر کال کرنے کے باوجود بعض مواقع پر ایمبولینس بروقت نہیں پہنچتی۔ کہیں فاصلہ زیادہ ہونے کا مسئلہ سامنے آتا ہے، کہیں گاڑی کی عدم دستیابی، کہیں رسپانس میں تاخیر اور کہیں یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ مریض کے لواحقین اپنی مدد آپ کے تحت نجی گاڑی، رکشے یا کسی دوسرے ذریعے سے مریض کو اسپتال لے جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے، ایک غریب خاندان کا فرد حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ گھر والے گھبراہٹ میں 1122 پر فون کرتے ہیں اور انہیں امید ہوتی ہے کہ چند ہی لمحوں میں ایمبولینس پہنچے گی۔ لیکن اگر انتظار طویل ہو جائے تو اس خاندان کے لیے ہر گزرتا ہوا منٹ ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ آخرکار وہ کسی رکشے، پرائیویٹ گاڑی یا دستیاب دیگر ذریعے کا انتظام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر سرکاری ایمرجنسی ایمبولینس سروس کا مقصد کہاں پورا ہوتا ہے؟
یہاں کسی ایک ڈرائیور، اہلکار یا افسر کو موردِ الزام ٹھہرانا مقصد نہیں۔ اصل سوال نظام کی کارکردگی کا ہے۔
اگر 1122 کی گاڑیاں موجود ہیں تو ان کی تعداد کتنی ہے؟ کون سی ایمبولینس کس علاقے کے لیے مختص ہے؟ کتنے اہلکار ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں؟ ایمرجنسی کال موصول ہونے کے بعد اوسطاً کتنے منٹ میں ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے؟ کتنی گاڑیاں فعال حالت میں ہیں؟ کیا دور دراز علاقوں کے لیے الگ رسپانس پلان موجود ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا ان تمام معلومات کا باقاعدہ ریکارڈ اور نگرانی کا نظام موجود ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ایمبولینس سروس کوئی عام سرکاری سہولت نہیں۔ یہ ایسی سروس ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی جان سے ہے۔
دنیا بھر میں ایمرجنسی سروسز کی اہمیت اسی لیے تسلیم کی جاتی ہے کہ حادثے کے بعد ابتدائی طبی امداد اور بروقت اسپتال منتقلی کئی صورتوں میں انتہائی اہم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ جب وہ ایمرجنسی نمبر پر کال کریں تو انہیں ایک فعال، منظم اور بروقت سروس میسر ہو۔
عمرکوٹ کے شہری یہ نہیں چاہتے کہ 1122 صرف ایک نمبر بن کر رہ جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ضرورت کے وقت فون اٹھایا جائے، درست مقام معلوم کیا جائے، قریب ترین ایمبولینس روانہ کی جائے اور اس کے پہنچنے تک کال کرنے والے کو مناسب رہنمائی بھی دی جائے۔
خاص طور پر کنری، سامارو، پتھورو اور دیگر دور دراز علاقوں میں ایمبولینس سروس کی کوریج کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی علاقے میں ایک ایمبولینس موجود ہے اور اسے کئی دور دراز مقامات کی ایمرجنسی کالز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہاں متبادل انتظام اور اضافی ایمبولینس کی ضرورت پر بھی غور ہونا چاہیے۔
عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ 1122 کی شکایت درج کرنے کا مؤثر طریقہ کیا ہے؟ اگر ایمبولینس مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو شہری کس افسر سے رابطہ کرے؟ کیا ہر کال کا رسپانس ٹائم ریکارڈ کیا جاتا ہے؟ اور کیا تاخیر کی صورت میں کسی سطح پر جواب طلبی ہوتی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع عمرکوٹ میں 1122 ایمبولینس سروس کی تحصیل وار کارکردگی، گاڑیوں کی دستیابی، رسپانس ٹائم، عملے کی موجودگی اور روزانہ موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز کا جامع جائزہ لیا جائے۔ اگر کہیں کمی ہے تو اسے دور کیا جائے، اور اگر وسائل ناکافی ہیں تو متعلقہ حکام کو اضافی وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔
کیونکہ عوام کو ایسی سہولت نہیں چاہیے جو صرف کاغذ پر موجود ہو۔ عوام کو ایسی 1122 چاہیے جو حادثے کے وقت پہنچے، مریض کو بروقت اسپتال منتقل کرے اور لواحقین کو یہ احساس دے کہ مشکل گھڑی میں ریاستی نظام ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایمرجنسی میں وقت زندگی ہے۔
اور اگر کسی ایمرجنسی سروس کو ضرورت کے وقت بروقت حاصل کرنا ہی مشکل ہو جائے تو پھر عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ کیا یہ سہولت موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر تو نہیں؟


