تہران :ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے نئے میزائلوں کے حوالے سے ’دوٹوک پیغام‘ مل چکا ہے۔
محسن رضائی نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ’معاشی جنگ کا جواب خلیجِ فارس میں سمندری آمدورفت کے لیے ممنوع زون قائم کرکے دیا جائے گا، جو ناکہ بندی کے علاقے تک پھیلا ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف ہماری عملی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے۔‘
گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حکام دعویٰ کر چکے ہیں کہ انھوں نے بحری جہاز شکن ہتھیاروں کے ذریعے خلیجِ فارس میں دو امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
محسن رضائی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’پہلی بار ہم نے ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘
ایرانی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ‘قاسم بصیر’ میزائل "ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ” ہے۔ رپورٹ میں اس میزائل کو طویل فاصلے تک مار کرنے والا، زیادہ درست نشانہ لگانے والا اور آدھے ٹن (500 کلوگرام) وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ یہ میزائل گذشتہ سال منظرِ عام پر لایا گیا تھا، جب اس کی مار کرنے کی صلاحیت کم از کم 1,200 کلومیٹر بتائی گئی تھی۔
حال ہی میں ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنِ رضا نے بھی کہا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
دو روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی بظاہر اپنے دو بحری جہازوں پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے، کہ اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائرنگ کریں گے تو ہم آپ پر کہیں زیادہ بھاری معاشی قیمت عائد کریں گے اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔‘
امریکا کو ایران کے نئے میزائلوں سے ’دوٹوک پیغام‘ مل چکا ہے، محسن رضائی

