سیالکوٹ۔سلیم احمد اعوان شیخو ۔
ٹریفک پولیس سیالکوٹ نے بھی لاہور اور فیصل آباد ٹریفک و عام پولیس کی نقل کر لی ہے۔بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ کی تاریخ میں پولیس ملازم کو رشوت دینے کا پہلا مقدمہ تھانہ سمبڑیال میں درج کر لیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ایک رکشہ ڈرائیور فیصل حیات نے ٹریفک پولیس کے ملازم لقمان کو کہا کہ آپ بہت اچھے آفیسر ہیں اور لقمان کو 5 سو روپے مٹھائی کے نام پر دئیے جب لقمان نے پوچھا کے یہ کس خوشی میں 5 سو روپے مٹھائی کے نام پر دے رہے ہو تو ڈرائیور نے کہا کہ ویسے ہی دے رہا ہوں کیونکہ آپ مجھے اچھے لگے ہیں تو لقمان نے 5 سو روپے کو رشوت کی رقم سمجھ کر ڈرائیور جو کہ ضلع خوشاب کا رہائشی ہے اور سیالکوٹ میں رکشہ چلاتا ہے اس کو حراست میں لے کر تھانہ سمبڑیال پولیس کے حوالے کر دیا تو تھانہ سمبڑیال پولیس نے پولیس ملازم لقمان کو رشوت دینے کے الزام میں رکشہ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔جبکہ شہریوں کا سوال ہے کہ رکشہ چلانے والے کو ٹریفک پولیس سے اتنی محبت کیوں ہو گئی کہ وہ اسے رشوت دینا چاہتا تھا اور مقدمہ کے مطابق ٹریفک پولیس ملازم لقمان کو کہہ دیا کہ آپ بہت اچھے ہیں تو اچھے شخص کو انعام دیا جاتا ہے رشوت نہیں دی جاتی۔رشوت تو ناجائز کام کو جائز کروانے کے لئے دی جاتی ہے اور شہری یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ لاہور اور فیصل آباد میں درج ہونے والے ایک جیسے مقدمات اور تھانہ سمبڑیال میں درج ہونے والے مقدمہ کا سکرپٹ ایک ہی جیسا ہے کیا یہ کوئی مخصوص فارمیٹ ہے جو ہر مقدمہ میں ایک جیسا ہی رہتا ہے۔

