پرائیویٹ اسکول کے طالب علم پر ہفتہ وار 60 ہزار جبکہ سرکاری اسکول کے بچے پر سالانہ 87 ڈالر بھی خرچ نہیں ہوتے،
لاہور:پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ایک میڈیکل کالج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی فرق، صحت کی سہولیات کی ابتر حالت اور سماجی ناانصافیوں پر انتہائی جرات مندانہ اور فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر آج کا طالب علم آنے والے بیس سالوں میں ہم سے بہتر نہیں ہو گا تو یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ اور خوف کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے معاشرے کے دوہرے معیار پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ایک بچہ جو مہنگے پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا ہے، اس پر ہفتہ وار 60 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس سرکاری اسکول کے ایک طالب علم پر سالانہ 87 ڈالر (تقریباً 24 ہزار روپے) بھی خرچ نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ اس سوسائٹی کی سب سے بڑی ناانصافی ہے، اور مجھے ان دیکھتی اور سوال پوچھتی آنکھوں سے خوف آتا ہے جو اس ناانصافی کو محسوس کرتی ہیں۔
راولپنڈی میں پیش آنے والے المناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ اس حادثے پر کوئی بھی معقول توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ چودہ معصوم بچوں کی جان چلی جائے اور اس پر روایتی انکوائریز کے کیا معنی رہ جاتے ہیں؟ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا میں ایسے سانحات سے سبق سیکھ کر راہیں متعین کی جاتی ہیں، مگر ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہے۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ دیہی علاقوں کا رخ کریں تو ساٹھ ستر ہزار کی آبادی پر مشتمل پورے کے پورے قصبے عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر ہیں، جنہیں تبدیل کرنا حکومت کی پالیسی اور ہم سب کی محنت کا تقاضا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے طلبا و طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ان مسائل پر ضرور آواز اٹھائیں تاکہ آنے والے وقت میں ہمیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سوسائٹیز الفاظ اور اصولوں پر کھڑی ہوتی ہیں، اس لیے اپنے الفاظ میں ایسی تاثیر پیدا کریں جو عملی اقدامات کی صورت میں معاشرے کی بہتری کا سبب بنے۔

