پشاور انورزیب خان بے نقاب نیوز
پشاور سنٹرل جیل سپرٹینڈنٹ کی سیٹ قارون کا خزانہ یا کچھ اور۔۔۔؟؟؟
تفصیلات کے مطابق پشاور سنٹرل جیل میں جو بھی ایا خزانہ لوٹا اور چلتے بنے۔۔ سنٹرل جیل میں جو بطور سپرٹنڈنٹ اتا ہے۔کڑوڑو کما کر بخوشی چالا جاتا ہے۔ابھی خال ہی میں سپرٹنڈٹنٹ سنٹر جیل کی رھائش گا کو ازسر نو تعمیر کرنے کے لئے گرایا گیا۔کہ نیا اعلی شان بنگلہ بنے گا۔۔بالکل بنایا چائے گا۔لیکن سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ اس بنگلے کا پرانا سامان کہا گیا۔۔۔ کیا وہ قانون کے مطابق جمع کیا جاتا ہے یابس ویسے ہی کاعذوں میں لکھ کر تھما دیا جاتا ہے۔پشاور سنٹرل جیل کے سپرٹنڈنٹ کے گھر میں کڑوڑوں روپے مالیت کے قیمتی لکڑی تھی اخر وہ کہا گئی۔اور کدھر بھیجا گیا اور وہ پیسے کس کے جیب میں گئے۔یہاں کہا خرچ ھوئی۔ یہ کہانی یہاں ختم نہں ھوتی سنٹرل جیل میں ایک نئے مسجد کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ۔جس کے لئے فنڈ منظور کی گئی۔مسجد اپنے ٹائم سے پہلے تعمیر کی گئی۔ لیکن ناقص میٹریل کا استعمال کیا گیا۔ اور ایک سال بعد مسجد کی دیواروں میں دراڑے پڑ گئی۔۔ کیا سارا فنڈ مسجد پر لگایا گیا یا یہاں یعنئ اللہ کے گھر میں بھی کسی نے ھاتھ صاف کیا ھوگا۔۔جیل میں منشیات کا ھسپتال بنا ھوا ہےجو ایک اچھی کاوش ہے۔لیکن ھسپتال کا ٹھیکہ دار ایک ایسے بندے کو بنانا جس کا باپ سابق جیل منسٹر ھوں۔انکو ٹھیکہ کس مقصد کے لئے دیا گیا ۔کیا اورکوئی اس اصل حقدار نہ تھا۔ نیا دینا نہیں سمجھا چاھتے تھے۔ جیل کے اندر جو بھی کام ھو وہ جیل سپرٹنڈنٹ ،مشیر۔ کا حق سمجھا جاتا ہے خود سوچھے ان سب کا مقصد کیا ھوتا؟ کہ کام اچھے طریقے سے ھوں یا لوٹ مار ارام سے کیا جائے۔اور اب اس سب پر پردہ ڈالنے کیلئے سپرٹنڈنٹ عمیر خان کا تبادلہ کیا گیا تاکہ وہ پرانے سپرٹنڈنٹ کے سارے کارناموں کو قانون کا لبادا ڈال کر قانونی بنا جائے۔


