اسلام آباد :سابق وفاقی وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے پمز ہسپتال واقعے پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
فواد چوہدری نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں۔
بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں، اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائ ہونی چاھئے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئ سزا نہیں ہو گی۔۔ وفاقی وزیر اس انتہائ دردناک واقعہ پر بر الذمہ قرار… https://t.co/9eTDzVW8J0
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 26, 2026
ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئی سزا نہیں ہو گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اس واقعہ پر بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔
شیریں مزاری نے فواد چوہدری کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے ٹرین حادثات کو ہی یاد کر لیجیے۔ تاہم یہ واقعہ انتہائی ہولناک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پمز اور چلڈرنز ہسپتال شدید غفلت، بدانتظامی اور ابتری کا شکار ہیں۔
شیریں مزاری کا مزید کہنا ہے کہ ’چلڈرنز ہسپتال کے لیے ’فرینڈز آف چلڈرنز ہسپتال‘ کے نام سے ایک بہت فعال گروپ موجود تھا، جو حکومتی فنڈنگ کی کمی سے پیدا ہونے والی خلا‘ کو پُر کرنے میں مدد کرتا تھا، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ اب بھی فعال ہے یا نہیں۔

