ہزاروں درخواست دہندگان کے انٹرویوز ری شیڈول، انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سخت امیگریشن پالیسیوں اور کریک ڈاؤن کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے دنیا بھر میں ویزا کے حصول کے لیے آنے والے درخواست دہندگان کی اپوائنٹمنٹس کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر میں موجود تمام امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں ایک جامع عالمی تربیتی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ویزا سروسز اور انٹرویوز کے شیڈول میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
🚨 WOW! Sec. Marco Rubio has just PAUSED foreigner visa applications worldwide, so that staff can be trained about blocking migrants who would likely need taxpayer welfare to live in America — FT
YES!
Marco is going on a generational run for America first! 🔥🔥
The visa system… pic.twitter.com/JwgSZSnABT
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) August 26, 2026
رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کا شکار ہونے والے ان تمام امیگرنٹ ویزا کے امیدواروں کو ای میلز کے ذریعے مطلع کیا جا رہا ہے جن کے انٹرویوز طے شدہ تھے، اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی اپوائنٹمنٹس کو فی الحال ملتوی کر کے نئی تاریخیں بعد میں دی جائیں گی۔
محکمہ خارجہ نے اس ٹریننگ کے دورانیے یا تفصیلی خدوخال کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں، تاہم اتنا ضرور واضح کیا گیا ہے کہ اس تربیت کا بنیادی مقصد قونصلر افسران کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ایسے تمام ویزا درخواست دہندگان کا ‘جامع اور سخت جائزہ’ لے سکیں جو مستقبل میں امریکی حکومت کے عوامی فوائد یا امداد پر انحصار کرنے کے متوقع ہوں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے اس جارحانہ امیگریشن کریک ڈاؤن میں ویزا اور گرین کارڈز کی منسوخی کے ساتھ ساتھ درخواستوں کو مختلف بہانوں سے مسترد کرنا شامل ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم اس پالیسی کو اندرون ملک شدید قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی جج نے اس پالیسی کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں پر امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کی پابندی لگائی گئی تھی، جج کا کہنا تھا کہ یہ اقدام وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس پورے عمل کو وسیع پیمانے پر ‘امتیازی’ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف آزادی اظہار اور قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے امریکہ میں خاص طور پر نسلی اقلیتوں کے لیے ایک غیر محفوظ اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بنیادی ہدف غیر قانونی امیگریشن کو بنایا تھا، لیکن عملی طور پر ان کی انتظامیہ نے قانونی تارکین وطن کے لیے بھی دروازے بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔

