ایتھنز: یونان کے مشہور سیاحتی جزیرے کریٹ میں جنگلات میں شدید آگ بھڑکانے کے الزام میں 35 سالہ ایک اسرائیلی سیاح کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یونان سال کے انتہائی خطرناک جنگلی آتش زدگی (فائر سیزن) کے دورے سے گزر رہا ہے اور حکومت نے اس حوالے سے سخت ترین قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والا سیاح ایک کرائے کی ولا میں مقیم تھا جہاں اس نے سخت پابندی کے باوجود باربی کیو کرنے کیلئے لکڑی اور کوئلہ جلایا۔ ولا کے مالک نے مبینہ طور پر شدید خطرات کے پیشِ نظر پہلے ہی تحریری ہدایت دی تھی کہ احاطے میں باہر گرل یا باربی کیو کرنا بالکل ممنوع ہے، لیکن اس وارننگ کو نظر انداز کر دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق جمعے کی شام تقریباً سات بج کر دس منٹ پر جنوبی ریتھیمنو کے علاقے میں سیلیا کے قریب واقع اس ولا کے صحن سے آگ کا آغاز ہوا۔ تیز ہوشربا ہواؤں کے باعث باربی کیو کی چنگاریاں قریبی سوکھے جنگل اور جھاڑیوں پر جا گریں، جس سے شعلے چند ہی لمحوں میں بے قابو ہو گئے۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ حکام کو فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کرنا پڑا۔
آگ پر قابو پانے کے لیے 60 سے زائد فائر فائٹرز، خصوصی یونٹس، متعدد فائر انجنوں کے علاوہ ہیلی کاپٹرز اور پانی کے ٹینکرز کو بھی طلب کیا گیا۔ خطرے کے پیشِ نظر قریبی آبادیوں کو بھی وقتی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔ چار گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد فائر فائٹرز نے آگ پر مکمل قابو پا لیا، جبکہ ملزم سیاح کو عدالت میں پیش کر کے اس کی حراست میں توسیع کی کارروائی مکمل کی گئی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور سازشی نظریات بھی گردش کرنے لگے ہیں۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ محض ایک عام غفلت نہیں بلکہ اسپین اور فرانس کے جنگلات میں آگ لگانے میں بھی اسرائیلی شہری ملوث ہیں اور حساس سیاحتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاکہ اسپین کو بالخصوص اور برطانیہ، یورپ اور امریکا کو بالعموم اسرائیل مخالف ہونے کی سزا دی جاسکے۔
یونان : جنگلات میں آگ لگانے کے الزام میں اسرائیلی سیاح گرفتار، یورپ آتشزدگی میں بھی اسرائیل ملوث ہے!

