واشنگٹن ڈی سی : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر گہری خوشی کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اتوار کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے بالآخر باضابطہ طور پر اس دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک ’’بڑا، اہم اور جرات مندانہ قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح خطے کے ممالک آپس میں متحد ہو رہے ہیں اور مؤثر انداز میں اپنی سلامتی و دفاع کو یقینی بنانے کے قابل ہو رہے ہیں۔
یادرہےیہ اہم سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کا دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے، جس میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں شریک ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ایسے میں یہ معاہدہ مختلف تجزیوں اور قیاس آرائیوں کی زد میں ہے اور اسے ’سنی اتحاد‘، ’مسلم نیٹو‘ جیسے نام بھی دیے جا رہے ہیں۔ چند تجزیہ کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ اتحاد اسرائیل اور ایران کے خلاف ہے۔
تاہم ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور ایسے تمام ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں جو خطے میں استحکام، امن اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ الجزیرہ چینل کو دیے جانے والے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر اردوغان نے کہا ہے کہ مصر اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےسعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

