تحریر:رانافیصل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پسند کی شادی، بیٹی کے لیے موت کا پروانہ بن گئی مبینہ طور پر باپ، بھائیوں اور چچا نے مل کر اقرا کو قتل کر دیا
خانیوال تھانہ صدر خانیوال کی حدود چک نمبر 170 دس آر میں ایک دلخراش واقعہ نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق اقرا نامی نوجوان لڑکی نے مبینہ طور پر تین روز قبل اپنی پسند سے شادی کی تھی، جس پر اہلِ خانہ ناراض تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اقرا کو مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر گھر واپس لایا گیا کہ اسے رخصت کیا جائے گا، تاہم گھر پہنچنے کے بعد حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ مبینہ طور پر باپ نے اپنے بھائیوں اور بیٹے کی مدد سے رسی کا پھندا ڈال کر اپنی ہی بیٹی کا گلا گھونٹ دیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک تلخ سوال ہے کہ کیا کسی بیٹی کی جان لے کر واقعی خاندان کی عزت بڑھ سکتی ہے؟ کیا بیٹی کی لاش پر سجنے والی پگڑی کبھی عزت کی علامت بن سکتی ہے؟
یقیناً اولاد کے فیصلے والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ بیٹیوں کو بھی چاہیے کہ زندگی کے بڑے فیصلے کرتے وقت والدین کے جذبات، عزتِ نفس اور خاندان پر پڑنے والے اثرات کو ضرور مدِنظر رکھیں، کیونکہ بیٹی کے گھر سے جانے کے بعد والدین خصوصاً باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے، اسے بھی سمجھنا ضروری ہے۔ مگر اختلاف، ناراضی یا پسند کی شادی کسی انسان کی جان لینے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتی۔
والدین کا حق ہے کہ وہ اپنی اولاد کو سمجھائیں، مشاورت کریں اور غلط فیصلے سے روکنے کی کوشش کریں، لیکن زندگی کا خاتمہ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کسی فیصلے پر اختلاف ہو تو قانون، گفتگو اور حکمت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اقرا اس دنیا سے چلی گئی، ایک باپ جیل پہنچ گیا، ایک خاندان اجڑ گیا—مگر سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے: آخر کب تک بیٹیوں کے خون سے عزت کی پگڑی اونچی کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟


