Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      "5 سالوں میں ہر شخص کا اپنا ذاتی اے آئی ایجنٹ ہوگا”،مارک زکر برگ، انسان کیا کرینگے؟ بڑا سوال

      یوٹیوب کا بڑا اعلان: سوشل میڈیا سائٹ پر پیسے کمانے دگنا مشکل، کرئیٹرز پر کڑی شرائط

      ڈیجیٹل انقلاب! پی ٹی اے کا ’ای سم‘ کی نئی اور یکساں پالیسی کا اعلان ، فیس کیا ہوگی ؟

      کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج کے د وران مقبول ہونے والے محمد عرفان کا سوشل میڈیا چینل کیوں بند ہوا؟

      دنیا بھر میں واٹس ایپ ڈاؤن: پاکستان سمیت کئی ممالک میں تصاویر، ویڈیوز اور میڈیا فائلز بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      کشمیر الیکشن میں دھاندلی ہوئی، نئے صوبے بنانے کے لیے عوام کی رائے لی جائے، مخدوم جمیل الزمان

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

     تحریر: راجہ نورالہی عاطف

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    ادب کسی بھی معاشرے کی فکری، تہذیبی اور اخلاقی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی صلاحیتوں، علم و دانش اور تخلیقی فکر کو زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں، وہ درحقیقت آنے والی نسلوں کے فکری سفر کو روشن کرتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے شب و روز علمی و ادبی خدمات انجام دینے والی شخصیات میں ڈاکٹر ثمینہ گل کا نام بلاشبہ ایک معتبر اور درخشاں حیثیت رکھتا ہے۔
    ڈاکٹر ثمینہ گل ایک ممتاز شاعرہ، ادیبہ، مصنفہ، محققہ اور اینکر کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف لاہور، سرگودھا کیمپس کے شعبۂ اردو سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں۔ تدریس کے مقدس شعبے سے ان کی وابستگی محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ اردو زبان و ادب سے ان کی گہری محبت اور فکری وابستگی کا عملی اظہار ہے۔
    ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ان کے ہاں علم اور عمل، تحقیق اور تخلیق، تدریس اور تربیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کو صرف نصابی علم منتقل نہیں کرتیں بلکہ انہیں ادب کو سمجھنے، سوال اٹھانے، غور و فکر کرنے اور اپنے خیالات کو خوبصورت انداز میں بیان کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہی خوبی ایک عام استاد کو ایک مثالی استاد کے مقام تک لے جاتی ہے۔
    ڈاکٹر ثمینہ گل کی گفتگو میں شائستگی، لہجے میں نرمی، اندازِ بیان میں سادگی اور فکر میں وسعت نمایاں ہے۔ ان کی شخصیت میں علم و ادب کی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی دل آویزی بھی پائی جاتی ہے جو ان کے اردگرد موجود لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ وہ کلاسیکی اردو ادب کی عظمت اور جدید ادبی رجحانات کی اہمیت، دونوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
    اردو ادب کا دامن صدیوں پر محیط ایک عظیم علمی و تہذیبی ورثے سے مالا مال ہے۔ اس ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس کی معنویت اجاگر کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر ثمینہ گل اس ذمہ داری کو نہایت خلوص اور محنت سے نبھا رہی ہیں۔ ان کے تحقیقی اور تخلیقی کام میں ادب کی گہرائی، عصری شعور اور فکری وسعت کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
    ان کی علمی خدمات کا دائرہ تدریس تک محدود نہیں۔ تحقیق، تنقید، تصنیف، شاعری اور ابلاغ کے مختلف میدانوں میں ان کی موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔ وہ ادب کو محض کتابوں اور کلاس روم تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کی فکری تربیت اور شعوری بیداری کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ادبی سرگرمیوں میں ایک زندہ اور متحرک فکر نمایاں نظر آتی ہے۔
    علمی، ادبی اور تخلیقی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر ثمینہ گل کو متعدد اعزازات سے نوازا جانا بھی ان کی صلاحیتوں، مسلسل محنت اور ادب سے گہری وابستگی کا اعتراف ہے۔ اعزازات کسی شخصیت کی منزل نہیں ہوتے بلکہ اس کے سفر کی کامیابیوں کا اعتراف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ثمینہ گل کے لیے یہ اعزازات یقیناً حوصلہ افزائی کا باعث ہیں، تاہم ان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ علم و ادب کی شمع کو مسلسل روشن رکھنے کے عمل میں شریک ہیں۔
    آج کے دور میں جب مطالعے کا رجحان کم اور فوری معلومات کے حصول کا رجحان زیادہ ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں اردو زبان و ادب کے اساتذہ اور اہلِ قلم کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر ثمینہ گل جیسی شخصیات نوجوان نسل کو کتاب، تحقیق، تخلیق اور مثبت فکری رویوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی علمی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر اخلاص، محنت اور صلاحیت یکجا ہو جائیں تو ادب معاشرے کی فکری تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ ڈاکٹر ثمینہ گل نے اپنے علمی سفر کو محض ذاتی کامیابی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے طلبہ کی فکری اور علمی تربیت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ایک استاد کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے شاگرد اس کے علم، کردار اور رہنمائی سے آگے بڑھیں اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
    ڈاکٹر ثمینہ گل اردو زبان و ادب کے لیے یقیناً سرمایۂ افتخار ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، تحقیقی اور تدریسی خدمات نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ان جیسی شخصیات کی موجودگی اردو ادب کے مستقبل کے حوالے سے امید پیدا کرتی ہے کہ ہماری قومی زبان کا علمی و ادبی سفر اسی جذبے، محبت اور تحقیق کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں علم و ادب کی خدمت کرنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کی جائے، ان کی خدمات کو اجاگر کیا جائے اور نوجوان نسل کو ان کے علمی سفر سے روشناس کرایا جائے۔ ڈاکٹر ثمینہ گل کا ادبی سفر اس حقیقت کی خوبصورت مثال ہے کہ قلم، علم اور اخلاص اگر یکجا ہو جائیں تو ایک فرد پوری نسل کی فکری تربیت میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ثمینہ گل کو صحت، سلامتی، عزت، خوشیوں اور مزید علمی و ادبی کامیابیوں سے نوازے، ان کے قلم کو مزید توانائی عطا فرمائے اور اردو زبان و ادب کی خدمت کا یہ خوبصورت سفر ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔
    آمین ثم آمین۔

    Related Posts

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    سرکاری سکولوں کی شاندار کامیابی — ضلع لیہ کے روشن مستقبل کی نوید

    مقبول خبریں

    عوامی سروےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت فرش کو چھونے لگی، ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ

    سونے کی پھر بڑی چھلانگ، پہنچ سے باہر

    مارکو روبیو، اسکاٹ بیسنٹ اور اسٹیفن ملرسمیت اہم شخصیات کو بغیر صدرٹرمپ کے ”ائیر فورس ون“ میں بھیجا گیا،نیویارک ٹائمز

    امریکا اور ایران میں جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق: پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کی بیٹی برطانیہ میں رشتہ ازدواج میں منسلک

    بلاگ

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    سرکاری سکولوں کی شاندار کامیابی — ضلع لیہ کے روشن مستقبل کی نوید

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.