تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ضلع دیر بالا کو ہمیشہ سے امن، رواداری، بھائی چارے اور باہمی احترام کی سرزمین سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام نے مشکل اور آزمائش کی گھڑیوں میں بھی قیامِ امن کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں گرد و نواح کے کئی علاقوں میں بدامنی کے واقعات اور آپریشنز کے باوجود دیر بالا کے عوام نے اپنی سرزمین کو حتی الامکان امن کا گہوارہ بنائے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دیر بالا کا نام ایک نسبتاً پُرامن خطے کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔
مگر آج کے حالات ایک بار پھر ہم سے سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ داری کا تقاضا کر رہے ہیں۔ حالیہ دوبندو کے واقعے نے پورے علاقے میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ اس موقع پر عوام نے جس جذبے، ہمت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور محصور اہلکاروں کی رہائی کے لیے آگے بڑھے، وہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے۔ تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد جذبات کے بجائے حکمت، تدبر اور اجتماعی ذمہ داری کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امن صرف فورسز یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن عوام کے تعاون کے بغیر امن کی بنیاد مضبوط نہیں ہوسکتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دیر بالا کے عوام فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے دور رہیں جو حالات کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔
اس سلسلے میں اہلِ قلم، صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے۔ قلم معاشرے کی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک غیرمصدقہ خبر، اشتعال انگیز سرخی یا جذباتی پوسٹ چند لمحوں میں پورے علاقے کی فضا کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے صحافیوں کو چاہیے کہ ہر خبر کی تصدیق کے بعد اسے عوام تک پہنچائیں، حساس معاملات میں ذمہ دارانہ صحافت کو ترجیح دیں اور ایسی معلومات نشر کرنے سے گریز کریں جو خوف، اشتعال یا بے چینی پیدا کریں۔
آج دیر بالا کو ایسے قلم کی ضرورت ہے جو نفرت کے بجائے محبت کا پیغام دے، اشتعال کے بجائے شعور بیدار کرے اور تقسیم کے بجائے اتحاد پیدا کرے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ مشکل حالات میں معاشرے کی درست سمت میں رہنمائی کرنا بھی ہے۔
علمائے کرام بھی اس نازک مرحلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات میں امن، برداشت، بھائی چارے، قانون کی پاسداری اور انسانی جان کے احترام کا پیغام عام کیا جائے۔ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر معاشرے کا امن کسی بھی صورت میں قربان نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح سیاسی و سماجی رہنماؤں، قومی مشران، نوجوانوں، تاجر برادری، اساتذہ اور زندگی کے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ دیر بالا کسی ایک جماعت، گروہ یا طبقے کی نہیں؛ یہ ہم سب کی مشترکہ سرزمین ہے۔ اس کے امن کو نقصان پہنچے گا تو اس کے اثرات کسی ایک گھر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر گلی، ہر بازار اور ہر خاندان متاثر ہوگا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن صرف بندوق کی خاموشی کا نام نہیں۔ امن دراصل وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھے، بازار آباد ہوں، بچے سکول جائیں، نوجوان کھیل کے میدانوں میں ہوں، کاروبار چلیں اور لوگ خوف کے بجائے امید کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
دیر بالا کے عوام نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے امن کے محافظ ہیں۔ آج پھر وقت ہم سے اسی کردار کا تقاضا کر رہا ہے۔ ہمیں فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون، ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ، اور حالات کے ساتھ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
آئیے! عہد کریں کہ ہم افواہ نہیں پھیلائیں گے، غیرمصدقہ خبر کو آگے نہیں بڑھائیں گے، اشتعال انگیزی سے گریز کریں گے اور ہر ایسے عمل کا حصہ بنیں گے جو دیر بالا کے امن کو مضبوط کرے۔
کیونکہ امن کسی ایک ادارے کی کامیابی نہیں، پوری قوم کی مشترکہ فتح ہے۔
دیر بالا نے ماضی میں امن کا پرچم بلند رکھا ہے؛ اب ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اسے مزید مضبوطی سے تھامیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرامن اور روشن دیر بالا چھوڑیں۔


