انیلہ شاہ کی رپورٹ
برطانیہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر محمد اقبال کو حادثات کے بعد خواتین کے طبی معائنے کےدوران جنسی زیادتی کے دو مقدمات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد 18 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے علاقے شکرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اقبال آئرلینڈ میں بطور جنرل پریکٹیشنر خدمات انجام دیتے تھے اور برطانیہ کے مختلف کلینکس میں ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کے طبی معائنے کرتے تھے۔ وہ انشورنس کمپنیوں کے لیے طبی رپورٹس بھی تیار کرتے تھے تاکہ حادثات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تعین کیا جا سکے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ نیوکاسل، کاؤنٹی ڈرہم اور سنڈرلینڈ میں طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر اقبال نے دو خواتین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جو طبی معائنے کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے جنسی زیادتی کے زمرے میں آتا تھا۔ کاؤنٹی ڈرہم میں ایک خاتون کے معائنے کے دوران ڈاکٹر نے اسے کھڑے ہونے کے لیے کہا اور مبینہ طور پر نامناسب جسمانی حرکات کے بعد اسے جنسی انداز میں چھوا۔
چند ہفتوں بعد سنڈرلینڈ میں دوسری خاتون کے معائنے کے دوران بھی ڈاکٹر نے اسے لباس اتارنے کے لیے کہا اور مبینہ طور پر اس کے جسم کے حساس حصوں کو نامناسب انداز میں چھوا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے دونوں الزامات سے انکار کیا، تاہم جیوری نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد انہیں دونوں مقدمات میں جنسی زیادتی کا مجرم قرار دے دیا۔ سزا سناتے ہوئے جج ایڈورڈ بِنڈلوس نے قرار دیا کہ ملزم نے طبی معائنے کو خواتین پر جنسی حملوں کے لیے پردے کے طور پر استعمال کیا اور ڈاکٹر اور مریض کے درمیان قائم اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کی۔ یہ واقعہ طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم سبق بھی رکھتا ہے کہ ڈاکٹر اور مریض کا تعلق صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ اعتماد، اخلاق اور ذمہ داری پر قائم ہوتا ہے۔ مریض اپنی صحت، جسم اور ذاتی معلومات کے حوالے سے ڈاکٹر پر اعتماد کرتا ہے، جس کا تحفظ طبی پیشے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً خواتین کے طبی معائنے کے دوران مریضہ کی واضح رضامندی، رازداری، پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کی پابندی اور ضرورت کے مطابق معاون طبی عملے کی موجودگی جیسے حفاظتی اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ کسی بھی پیشہ ور کی جانب سے حاصل شدہ اختیار یا اعتماد کا ذاتی مفاد کے لیے غلط استعمال نہ صرف متاثرہ فرد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے شعبے کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ مقدمہ اس امر کی بھی واضح یاد دہانی ہے کہ کوئی عہدہ، پیشہ یا سماجی حیثیت قانون سے بالاتر نہیں۔شفاف تحقیقات، مؤثر احتساب اور قانون کے مطابق کارروائی ہی متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ معاشرے میں قانون کی بالادستی اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھ سکتی ہے۔


