تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کے واقعے کی تحقیقات میں اہم اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے مبینہ سہولت کاروں سے متعلق تفتیش کا دائرہ پولیس افسران اور اہلکاروں تک بھی پہنچ گیا ہے، جبکہ سابق ایس ایچ او راوی روڈ کی پوسٹنگ کے دوران محافظ اسکواڈ نے ریحان بٹ کو گرفتار کیا لیکن پھر اسے رہا کر دیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سابق ایس ایچ او راوی روڈ کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے، جس میں مبینہ طور پر ملزمان کو اسلحے سمیت گرفتار کرنے کے بعد چھوڑے جانے سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریحان بٹ اور اس کے بہنوئی طارق خان کو ٹمبر مارکیٹ کے علاقے میں محافظ اسکواڈ نے مشکوک جان کر روکا اور تلاشی کے دوران مبینہ طور پر اسلحہ برآمد ہوا۔ دونوں کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا گیا، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں مبینہ طور پر مک مکا کے ذریعے ریحان بٹ کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ طارق خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بعد ازاں اسے ضمانت مل گئی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق یہی اسلحہ بعد میں پولیس اہلکاروں پر حملے میں استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ طارق خان نے راوی ریان کے علاقے میں رہائش اختیار کر رکھی تھی، جہاں بعد ازاں پولیس مقابلے کے دوران ریحان بٹ، اس کا والد اور ایک دیگر ساتھی مارے گئے۔ اس حوالے سے موجودہ ایس ایچ او میاں عاصم کو بھی طلب کر کے ریکارڈ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی
ہیں۔