Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اسمارٹ ٹی وی استعمال کرنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری: یوٹیوب نے انتہائی مفید فیچر متعارف کرا دیا

      موجودہ حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف

      ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک: ’منی نادرا‘ چلا کر شہریوں کی نجی معلومات بیچنے والا خطرناک گروہ گرفتار

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ، اسحاق ڈار

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد : نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو واضع کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس میں دیگر ملک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
    تینوں ملکوں نے جمعے کو مکہ میں اس اہم معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
    سفارتی حلقے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توسیع قرار دے رہے ہیں۔
    اسحاق ڈار نے آج ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا معاہدہ ’تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔‘
    ان کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد امن و سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔‘
    انہوں نے واضع کیا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان، یا ان کے دیگر ممالک یا تنظیموں کے ساتھ، موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔

    In the light of ongoing discussion and interest surrounding the “Makkah Joint Defence Agreement” (The Makkah Accord) over the past two days, the following context and clarity on this Agreement may be useful for everyone to note:

    • The Makkah Joint Defence Agreement, jointly…

    — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 9, 2026


    ’تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر کسی بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے مطابقت رکھتا ہے۔اسحاق ڈار کے مطابق ’مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔’اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہماری جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ خطے کے کسی بھی ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادگی رکھتا ہو۔
    ’مکہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔
    ’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
    ’ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور اپنی عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
    مکہ معاہدے کے بارے میں گذشتہ روز ترک وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ یہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے دفاعی معاہدے جیسا ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ایران کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔
    سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
    نیٹو کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق آرٹیکل 5 کے تحت رکن ممالک اس اصول کے پابند ہیں کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
    نیٹو کے مطابق ایسی صورت میں ہر رکن ملک متاثرہ ملک کی مدد کے لیے ضروری اقدام کرے گا، جس میں مسلح طاقت کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔
    ویب سائٹ پر مزید بتایا گیا کہ یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ 11 ستمبر، 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔
    تاہم اس شق کے تحت ہر رکن ملک کی ردعمل کی نوعیت پہلے سے طے شدہ نہیں، ہر ملک یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ متاثرہ اتحادی کی مدد کے لیے کیا اقدام ضروری سمجھتا ہے۔

    Related Posts

     جعلی پولیس اہلکار گرفتار  

    سہیل راجپوت کی زیرِ صدارت روشن مستقبل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دفتر میں  اہم اجلاس

    ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال ایاز سلیم کی زیرِ صدارت کرائم ریویو اجلاس

    مقبول خبریں

    کرکٹ گراؤنڈ میں  تلخ کلامی کے بعد فائرنگ اور تشدد 4 افراد شدید زخمی

    چیف سیکرٹری، آئی جی KPK بیان حلفی دیں لانگ مارچ میں سرکاری مشینری استعمال نہیں ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ

    برکس اجلاس سے قبل روسی صدر کی وزیراعظم مودی سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    9/11 حملوں کو 25 سال مکمل

    قومی کھلاڑی محمد رضوان اور امام الحق کرکٹ کھیلنے کے لئے نااہل

    بلاگ

    رنگپوربگھور کے محمد فضیل کا صوبائی سطح پر منفرد اعزاز

    بھارتی کرنل کا پاکستان میں دہشت گردوں کوسرعام سپورٹ کرنے کا اعتراف

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.