سکھر سے ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ
سکھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی سربراہی میں ڈی آئی جی آفس سکھر میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آپریشن نجاتِ مہران کی پیش رفت اور کارکردگی رپورٹ سمیت سکھر و لاڑکانہ رینجز میں امن و امان، جرائم کی صورتحال، پولیسنگ اور دیگر اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی آئی جی سکھر رینج، ڈی آئی جی لاڑکانہ رینج، سکھر اور لاڑکانہ کے ضلعی ایس ایس پیز، ایس پی اسپیشل برانچ، ایس پی سی ٹی ڈی، ایس پی آر آر ایف، ایس پی کرائم مینجمنٹ یونٹ، ایس پی انویسٹی گیشن سمیت دیگر متعلقہ پولیس افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران کی جانب سے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال، جرائم کی شرح، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں اور آپریشن نجاتِ مہران کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی جی سندھ نے افسران سے آپریشن کی مجموعی کارکردگی، جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اقدامات اور امن و امان کے قیام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر رپورٹ طلب کی۔آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے افسران کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر، اشتہاری و مفرور ملزمان اور دیگر سماجی برائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور تیز کیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور پولیس افسران فیلڈ میں اپنی موجودگی کو مزید مؤثر بنائیں۔اجلاس میں سنگین جرائم کی روک تھام، زیرِ تفتیش مقدمات کی پیش رفت، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری، منشیات و غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائیوں، پولیس کی مجموعی کارکردگی اور مختلف اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔آئی جی سندھ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جرائم کے خاتمے کے لیے جدید پولیسنگ، مؤثر انٹیلی جنس اور مختلف پولیس یونٹس کے درمیان مربوط رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے، اس لیے عوامی شکایات کے فوری ازالے اور قانون کی بالادستی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پولیس افسران اپنے علاقوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کریں اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور تعاون کو یقینی بنائیں۔آئی جی سندھ نے افسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ آپریشن نجاتِ مہران کے مقاصد کے حصول کے لیے کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے کے ساتھ ساتھ شہریوں میں تحفظ کا احساس مزید مضبوط کیا جائے۔

