تحریر :حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ہر سال جب بھی پنجاب بھر کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کلاسز کے نتائج سامنے آتے ہیں تو مبارک بادوں اور مبارک سلامت کے میسجز کے ساتھ ایک نئی بحث بھی جنم لینا شروع ہو جاتی ہے۔ 1191، 1181،1175 اور 1200 میں سے 1192 نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی خبریں سوشل میڈیا پر نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ والدین بھی بڑھ چڑھ کر اس سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں اور انجواۓ کرتے ہیں ۔ بظاہر تو یہ تعلیمی ترقی کی علامت ہی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی معیارِ تعلیم میں بہتری کی بناء پر ہو رہا ہے یا صرف یہ نمبروں کی ایک دوڑ ہے جوکہ طلبہ و طالبات کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔
تعلیم کا بنیادی مقصد صرف امتحان میں زیادہ نمبر لینا ہرگز نہیں ہے بلکہ اسکا مقصد ایک باشعور و باکردار، تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کا حامل طالب علم اور ایک ذمہ دار انسان بنانا ہے۔ اگر پورا نظام امتحان صرف نمبروں کے گرد ہی گھومنے لگے تو طلبہ کی توجہ علم حاصل کرنے کے بجائے ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ نمبر لینے پر مرکوز ہو جاتی ہے اور والدین کی توقعات بھی اسی نکتے پر دکھائی دیتی ہیں۔ نتیجتاً تحقیق، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور طلبہ ہر وہ حربہ و طریقہ استعمال کرتے چلے جاتے ہیں جو انہیں نمبروں کی اس دوڑ میں ٹاپ ہوزیشن ہر لے جاۓ۔
آج والدین، اساتذہ اور طلبہ سب بلاء سوچے سمجھے ایک ایسی دوڑ کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں جہاں پہ کامیابی و کامرانی کا معیار صرف مارکس شیٹ بن کر رہ گئی ہے۔ چند نمبروں کا فرق اگر ایک طرف طلبہ کے اعتماد و یقین، مستقبل کے انتخاب اور ذہنی سکون پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس کیساتھ ہی یہ رجحان نوجوانوں میں غیر ضروری ذہنی دباؤ،ڈپریشن اور مایوسی کو بھی جنم دیتا چلا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امتحانی نظام کو حقیقت میں اس انداز میں ترتیب دیا جائے جہاں صرف یادداشت جانچنا ہی مقصد نہ ہو بلکہ بچے کے فہم و ادراک، مشاہدہ، تحقیقی و تخلیقی سوچ اور عملی و عقلی صلاحیتوں کو بھی جانچنا بھی مقصد اولین ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس نظام میں فی الحال تو یہ سب کچھ مفقود دکھائی دیتا ہے۔ایک طالب علم زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کیلئے رٹا سسٹم پر انحصار کرتا ہے۔یوں اتنے نمبر لینے کے باوجود بھی اس میں وہ صلاحیت و قابلیت نظر نہیں آتی جو اس کامیابی کا تقاضہ ہونا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی طلبہ کی کامیابی و کامرانی صرف امتحانی نمبروں سے نہیں بلکہ ان کی مجموعی صلاحیت، کردار، تحقیق اور عملی کارکردگی سے جانچی جاتی ہے۔
زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے بہر حال اسکے لئے محنت کی ہوئی ہوتی ہے تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہمارا تعلیمی نظام ایسے نوجوان تیار کرے گا جو معاشرے کے مسائل کوطحل کرنے، نئی نئی ایجادات کرنے، بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور ملک کی ترقی میں مؤثرد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نمبروں کی دوڑ سے نکل کر معیاری تعلیم، کردار سازی اور عملی مہارتوں کو اپنی ترجیح بنائیں کیونکہ قومیں صرف زیادہ نمبر لینے والوں سے نہیں بلکہ زیادہ علم، زیادہ تدبر، بہتر کردار اور اعلیٰ و ارفع صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں سے ترقی کرتی ہیں۔


