Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اسمارٹ ٹی وی استعمال کرنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری: یوٹیوب نے انتہائی مفید فیچر متعارف کرا دیا

      موجودہ حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف

      ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک: ’منی نادرا‘ چلا کر شہریوں کی نجی معلومات بیچنے والا خطرناک گروہ گرفتار

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    میرے حالیہ کالم کو کئی سینئر پولیس افسران نے سراہا اور کالم کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کی جس میں ذکر کیا گیا تھا کہ ماضی ایک سابق آئی جی پنجاب کے دور میں پولیس اہلکاروں کے ڈوپ ٹیسٹ کرائے گئے تھے، جن میں بعض اہلکاروں کے بارے میں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء کے استعمال کی رپورٹس سامنے آئیں۔ لیکن جب فورس کے اندر سے یہ آواز بلند ہوئی کہ احتساب صرف کانسٹیبل سے شروع ہو کر وہیں ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر رینک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، تو یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ جو پولیس عوام کو منشیات فروشوں سے بچانے کی ذمہ دار ہے، اگر اسی ادارے کے چند افراد خود نشے کے شکنجے میں ہوں تو وہ انصاف، قانون اور دیانت کی علامت کیسے بن سکتے ہیں؟ نشے کے زیرِ اثر یا اس کی لت میں مبتلا شخص سے غیرجانبدار فیصلہ، بروقت کارروائی اور شفاف تفتیش کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ اگر قانون کے محافظ ہی اپنی ذہنی و جسمانی صلاحیت پر مکمل کنٹرول نہ رکھتے ہوں تو انصاف کی بنیادیں کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پنجاب پولیس کے ہر افسر اور اہلکار، خواہ وہ کسی بھی رینک کا ہو، اس کی جدید سائنسی اسکریننگ ہونی چاہیے۔ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کے ساتھ ہیئر فولیکل (Hair Follicle) ٹیسٹ بھی کیا جائے، کیونکہ یہ تین سے چھ ماہ تک ممنوعہ یا نشہ آور مادوں کے استعمال کے آثار ظاہر کر سکتا ہے۔ ایسی سائنسی جانچ سے ان عناصر کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے جو وردی کی عزت اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔
    پہلے کالم کا لنک:
    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“
    محکمہ اسکریننگ کے ریکارڈ کو خفیہ رکھے۔ تاہم جن اہلکاروں کے بارے میں ضابطے کے مطابق منفی نتائج سامنے آئیں، انہیں حساس یا فیلڈ پوسٹنگ دینے کے بجائے قانون اور سروس رولز کے مطابق انتظامی کارروائی کی جائے۔ مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ ادارے کی تطہیر اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہونا چاہیے۔ متعدد سینئر پولیس افسران نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت پنجاب یا آئی جی پنجاب بلاامتیاز اسکریننگ کا فیصلہ کریں تو وہ خود سب سے پہلے اپنا ٹیسٹ کرانے کے لیے تیار ہوں گے، تاکہ ثابت ہو کہ احتساب کا آغاز ہمیشہ اوپر سے ہوتا ہے، نیچے سے نہیں۔
    ان افسران کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر موجودہ آئی جی پنجاب عبدالکریم یا کوئی بھی پیشہ ور اور بااختیار سربراہ اس پالیسی کو میرٹ، شفافیت اور بلاامتیاز نافذ کرے تو پنجاب پولیس کے اندر ایک حقیقی اصلاحی انقلاب آ سکتا ہے۔ پولیس کسی بھی ریاست کی طاقت نہیں بلکہ اس کا اخلاقی چہرہ ہوتی ہے۔ شہری اپنی جان، مال، عزت اور انصاف کی امید اسی ادارے سے وابستہ کرتے ہیں۔ اگر یہی ادارہ اندر سے کمزور ہو جائے تو اس کا نقصان صرف پولیس کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بعض پولیس افسران کے بارے میں منشیات کے استعمال یا اس سے متعلق تادیبی کارروائیوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ادارے کے اندر احتساب کا نظام مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔ نشے کے خلاف سب سے مؤثر جنگ وہی پولیس لڑ سکتی ہے جو خود ہر قسم کے شبہے سے پاک ہو۔ عوام کو صرف طاقتور پولیس نہیں، بلکہ صاف، شفاف اور ہر لحاظ سے قابلِ اعتماد پولیس درکار ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قانون کی حکمرانی، انصاف کی بالادستی اور پولیس کے وقار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

    Related Posts

    ڈپٹی کمشنر  کی زیر صدارت  اینٹی سموگ کے حوالے سے اجلاس

      مزدور کی بیٹے اور داماد کے خلاف دہائی، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات

    راہزنی کی جھوٹی اطلاع دے کر پولیس کو گمراہ کرنے والا سیلز مین  گرفتار

    مقبول خبریں

    ڈپٹی کمشنر  کی زیر صدارت  اینٹی سموگ کے حوالے سے اجلاس

      مزدور کی بیٹے اور داماد کے خلاف دہائی، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات

     خلیجی ممالک میں کشیدگی،  پاکستان بھر میں فضائی آپریشن شدید متاثر

    9/11 حملوں کے 25 سال مکمل: ”سی آئی اے نے 1998 میں بتا دیا تھا “ خفیہ دستاویزات جاری ،خوفناک انکشافات سامنے آ گئے

    رنجی ٹرافی: تیز گیندباز محمد سراج کو سونپی گئی حیدرآباد کی کپتانی کی ذمہ داری

    بلاگ

       مشرق وسطیٰ کا نیا طوفان: حوثی باغی کیوں خونریز حملے کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    رنگپوربگھور کے محمد فضیل کا صوبائی سطح پر منفرد اعزاز

    بھارتی کرنل کا پاکستان میں دہشت گردوں کوسرعام سپورٹ کرنے کا اعتراف

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.