چین کے خلابازوں نے خلائی اسٹیشن پر کامیابی سے چاول کی کاشت کرکے اسے کامیابی سے کاٹ بھی لیا ہے ۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ دریافت چاند سے مریخ تک مستقبل کے مشنز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ یہ کرشمہ کیسے ہوا؟
-
کیا آپ نے خلاء میں اگنے والی فصلیں کھائی ہیں؟ چینی ایسا کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے خلائی اسٹیشن پر چاول کھانے کی تیاری کرلی ہے ۔ درحقیقت چین نے خلاء میں طویل انسانی سفر کو آسان بنانے میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ چینی خلابازوں نے تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر خلاء میں چاول کی کامیابی سے کاشت اور کٹائی کی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ دریافت چاند سے مریخ تک مستقبل کے مشنز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم بڑا سوال یہ ہے کہ یہ کرشمہ کیسے ہوا؟
خلاء میں کاشتکاری کیوں ضروری ؟
زمین سے کسی بھی چیز کو خلا ءمیں بھیجنا بہت بڑا کام ہے۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے خلاءباز زمین سے دور ہوتے جا تےہیں، ان کے لیے وقت پر راشن اور ضروری سامان پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس میں مریخ اور چاند کا سفر بھی شامل ہے۔
مستقبل میں اگر انسانوں کو طویل عرصے تک خلا ءمیں زندہ رہنا ہے یا دوسرے سیاروں پر بستیاں قائم کرنی ہیں تو انہیں اپنی خوراک خود اگانا ہوگی۔ چین نے اب چاول پر توجہ مرکوز کی ہے جو کہ دنیا کی اہم ترین فصلوں میں سے ایک ہے۔
کیسے ہوئی خلاء میں کھیتی ؟
مائیکرو ویو اوون جتنا بڑا چیمبر: تیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے اندر دھان کو ایک چھوٹے، خاص چیمبر میں اگایا گیا۔ جس کا سائز ایک مائکروویو اوون جتنا ہے۔
خصوصی بیج: سائنسدانوں نے دھان کی بونی قسموں کا انتخاب کیا، جو جلد پک جاتی ہیں اور انہیں کم جگہ درکار ہوتی ہے۔
کشش ثقل کی کمی کا چیلنج: مائیکرو گریویٹی یعنی کم کشش ثقل میں پودوں کو اگانا مشکل ہے۔ پتوں سے پانی خود بخود نیچے نہیں گرتا ہے۔ اس کی وجہ سے Pollen ہوا میں تیرنے لگتا ہے اور بیج ومٹی سے ٹکتے نہیں ہیں۔
ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے پودے لگانے کے خصوصی آلات تیار کیے ہیں۔ ان میں بیجوں کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے حیاتیاتی چپکنے والی چیزیں اور ہوا اور پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ترین نظام شامل ہیں۔
اب آگے کیا کر رہاہے چین ؟
چین صرف ایک بار دھان کی کٹائی کرکے رکنے والا نہیں ہے۔ خلاءباز اب خلاء میں چاول کی دوسری نسل اگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے دو نسلوں کی کاشت (Two Generation Cultivation) کے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
کٹے ہوئے فصلوں کے کچھ بیج خلائی اسٹیشن پر دوبارہ بوئے جائیں گے۔ سائنس دان یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا دھان مائیکرو گریویٹی میں بار بار اگ سکتا ہے اور طویل خلا میں رہنے سے اس کے جینز میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس کے علاوہ، 2022 میں، خلا ءمیں اگائے جانے والے دھان کے بیجوں کا عام بیجوں سے موازنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ خلائی ماحول پودوں کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

