نیویارک:فلکیاتی مناظر اور کہکشاؤں کے دل دادہ افراد کے لیے 12 اگست کی تاریخی رات تاریخ کی ایک انتہائی منفرد اور شاندار رات ثابت ہونے والی ہے۔
رواں ماہ کے خوشگوار اور معتدل موسم میں آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں کو ایک ہی رات میں چار بڑے اور حیرت انگیز فلکیاتی مظاہر دیکھنے کا نادر موقع ملے گا، جن میں سورج گرہن، شہاب ثاقب کی دلکش بارش، چھ سیاروں کی قطار بندی اور نیا چاند شامل ہیں۔ ’فاکس ویدر‘ کے مطابق اگست کا مہینہ آسمانی نظاروں کے لیے ہمیشہ سے بہترین مانا جاتا ہے۔
1۔ چھ سیاروں کی شاندار قطار بندی (11 تا 12 اگست): ’دی پلانیٹری سوسائٹی‘ کے مطابق منگل کی صبح سے پہلے کے اوقات میں آسمان پر ایک ہی منظر میں چھ سیاروں کا اکٹھے ظاہر ہونے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو کئی راتوں تک جاری رہے گا۔ اس نایاب قطار بندی میں مشتری، عطارد، مریخ، یورینس، زحل اور نیپچون شامل ہیں۔ ان میں سے مشتری، عطارد، مریخ اور زحل کو تو عام آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکے گا، البتہ یورینس کے مشاہدے کے لیے بائنوکولرز (دوربین) جبکہ نیپچون کو دیکھنے کے لیے بڑی ٹیلی سکوپ کی ضرورت ہوگی۔
2۔ نیا چاند (12 اگست): آسمانی مشاہدات کو مزید نکھارنے کے لیے نیا چاند اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ اس دوران چاند کی روشنی غائب ہوتی ہے اور رات کا آسمان مکمل تاریک اور صاف نظر آتا ہے۔ امریکی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر کو نئے چاند کا مرحلہ مکمل ہوگا۔
3۔ سورج گرہن کا نظارہ (12 اگست): اسی پرجوش دن دنیا ایک اور سنسنی خیز فلکیاتی مظہر یعنی سورج گرہن کی گواہی بھی دے گی۔ ناسا کے مطابق ایک مکمل سورج گرہن کا یہ منظر شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین کے علاقوں سے گزرے گا جبکہ پرتگال کا کچھ حصہ بھی اس میں شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں الاسکا سے لے کر شمالی کیرولائنا تک جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔ ناسا نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن (خواہ مکمل ہو یا جزوی) کو براہِ راست دیکھنے سے گریز کریں اور آنکھوں کے تحفظ کے لیے خصوصی سولر فلٹرز یا گرہن والے چشمے لازمی استعمال کریں۔
4۔ پرسیڈز شہاب ثاقب کی بارش کا عروج (12 تا 13 اگست): بدھ اور جمعرات کی درمیانی راتوں میں ’پرسیڈز‘ (Perseids) شہاب ثاقب کی بارش اپنے عروج پر ہوگی۔ سویفٹ ٹٹل نامی قومے کے ملبے سے پیدا ہونے والی اس شہابی بارش میں فی گھنٹہ ایک سو تک شہاب گرنے کا نظارہ دیکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس بار اس کا ملاپ نئے چاند کے اندھیرے کے ساتھ ہو رہا ہے، اس لیے نظارے کا مزہ دوبالا ہو جائے گا۔ ناسا نے مشورہ دیا ہے کہ شہاب ثاقب دیکھنے کے لیے کسی ایسے تاریک مقام کا انتخاب کریں جہاں مصنوعی روشنی نہ ہو، اور آنکھوں کو اندھیرے کے عادی ہونے کے لیے تقریباً تیس منٹ کا وقت دیں۔

