واشنگٹن ڈی سی :امریکا کا قومی قرضہ تیز رفتاری سے 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخ ساز اور خطرناک حد کی طرف بڑھ رہا ہے، جس نے ملکی اور بین الاقوامی معاشی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، صرف یکم جولائی سے اب تک امریکی قرضے میں 450 ارب ڈالر کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو امریکا روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 15 ارب ڈالر کا نیا قرض لے رہا ہے۔ اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو رات کی نیند کے دوران بھی امریکہ نے مزید 15 ارب ڈالر کے قرض بوجھ تلے خود کو دبا لیا۔
اس مالی بحران کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ محض ہر دو ہفتے کے اندر اتنے نئے قرضے لے رہا ہے جتنا کہ نیوزی لینڈ کی کل مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کا یہ بے لگام طوفان آخرکار عالمی منڈیوں، امریکی ڈالر کے استحکام اور عام شہریوں کے کچن کے بجٹ یعنی روزمرہ کی گروسری بلوں پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کرے گا۔
امریکی معیشت کا ٹائٹینک تباہی سے کتنا دور؟ قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر ، امریکا ہرروز کتنا قرض لیتا ہے !

