ممبئی: ممبئی پولیس نے بالی ووڈ کے معروف فلم ساز اور ڈائریکٹر شکیل نورانی کو ایک 33 سالہ اداکارہ کی مدعیت میں درج ہونے والے سنگین مقدمے کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پر نامور اداکارہ نے عصمت دری، زہر دینے، اسقاطِ حمل اور قابلِ اعتراض ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
شکیل نورانی، جنہوں نے "جورو کا غلام” (2000) اور "بڑے دل والا” (1999) جیسی فلمیں بنائیں، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے ہی روپوش ہو گئے تھے۔ متاثرہ اداکارہ نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں انکشاف کیا کہ ملزم نے گزشتہ چار سالوں کے دوران کئی مرتبہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اسے زہر بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس کا اسقاطِ حمل (میس کیریج) بھی ہوا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے اسے ایک نئے فلمی پروجیکٹ کے اسکرپٹ پر بات چیت کے بہانے ممبئی کے علاقے مالوانی میں اپنی رہائش گاہ پر بلوایا تھا، جہاں اس نے مبینہ طور پر اس کے مشروب میں کوئی نشہ آور چیز ملا کر بے ہوش کیا اور اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ہوش میں آنے پر ملزم نے دھمکیاں دیں کہ اگر اس نے پولیس یا گھر والوں کو بتانے کی کوشش کی تو وہ اس کی گندی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا۔
پولیس نے جدید تکنیکی ذرائع اور ہیومن انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے سراغ لگایا کہ 73 سالہ ملزم شکیل نورانی ممبئی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور مہابلیشور کے ایک ہل اسٹیشن پر واقع اپنے فارم ہاؤس میں چھپا بیٹھا ہے۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے ہفتے کے روز وہاں چھاپہ مار کر اسے دبوچ لیا اور ممبئی منتقل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) کی دفعہ 64(2)(m) یعنی ریپ، 123، 88 یعنی اسقاطِ حمل اور 351(2) یعنی جان سے مارنے اور بدنام کرنے کی دھمکیوں کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے 12 اگست تک پولیس کی جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں دے دیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
معروف فلم ساز شکیل نورانی ریپ اور بلیک میلنگ کے الزام میں مہابلیشور سے گرفتار

