لندن+ریاض:عالمی مارکیٹ میں ہفتے کے پہلے روز (پیر کو) خام تیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تیزی ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی ہے جب اہم تجارتی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کی مکمل بحالی کے حوالے سے خدشات اور غیر یقینی کی فضا بدستور برقرار ہے۔
ایران کا موقف اور بحری گزرگاہوں کا معاہدہ: ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ نئی بحری گزرگاہوں کے تعین سے متعلق دوطرفہ معاہدہ اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم، تہران نے یہ دوٹوک وضاحت بھی کی ہے کہ امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے قبل دیگر تمام ضروری شرائط کا پورا کیا جانا بھی لازمی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار: ان جغرافیائی و سیاسی کشیدگیوں اور سپلائی کے خدشات کے اثرات براہِ راست تیل کی قیمتوں پر پڑے ہیں:
برینٹ خام تیل (Brent Crude): کے فیوچر کنٹریکٹس میں 91 سینٹ یا 1.09 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 84.46 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): خام تیل بھی 61 سینٹ یا 0.78 فیصد مہنگا ہونے کے بعد 78.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
معاشی ماہرین کے مطابق جب تک آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مکمل ہماہنگی اور واضح پالیسی سامنے نہیں آتی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔

