صوابی سے حق نواز خان کی رپورٹ
پشاور بورڈ کے نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری کر دیے گئے۔ نتائج کے مطابق نویں جماعت میں طلبہ کی بڑی تعداد کو پروموٹ کیا گیا، جس کے باعث مجموعی کامیابی کی شرح 99 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ دسویں جماعت میں مجموعی پاس شرح 70.2 فیصد ریکارڈ کی گئی دستاویزات کے مطابق نویں جماعت کے امتحان میں 97 ہزار 950 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں 39 ہزار 103 کامیاب، 57 ہزار 847 کو پروموٹ کیا گیا جبکہ 1,000 امیدوار غیر حاضر رہے۔ یوں مجموعی طور پر 99 فیصد طلبہ کامیاب یا پروموٹ قرار پائے۔ ریگولر طلبہ و طالبات کی کامیابی و پروموشن کی شرح 99.2 فیصد رہی، جبکہ پرائیویٹ امیدواروں میں یہ شرح نسبتاً کم رہی۔
دوسری جانب دسویں جماعت کے امتحان میں 95 ہزار 496 امیدوار شریک ہوئے، جن میں 66 ہزار 988 کامیاب، 27 ہزار 788 ناکام جبکہ 720 غیر حاضر رہے۔ مجموعی کامیابی کی شرح 70.2 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق دسویں جماعت میں ریگولر طالبات نے نمایاں برتری حاصل کی اور ان کی کامیابی کی شرح 80.4 فیصد رہی، جبکہ ریگولر طلبہ کی کامیابی 67.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پرائیویٹ امیدواروں کی کارکردگی نسبتاً کمزور رہی، جہاں پرائیویٹ طلبہ کی کامیابی 44.4 فیصد اور پرائیویٹ طالبات کی 51.5 فیصد رہی۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریگولر اداروں کے طلبہ، خصوصاً طالبات، نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ پرائیویٹ امیدواروں کی کم کامیابی شرح تعلیمی معیار اور امتحانی تیاری پر سوالات بھی اٹھا رہی ہے۔ نویں جماعت میں وسیع پیمانے پر پروموشن کے باعث مجموعی کامیابی کی شرح غیر معمولی حد تک بلند رہی، جبکہ دسویں جماعت کے نتائج میں امتحانی کارکردگی کی حقیقی تصویر سامنے آئی۔

