واشنگٹن ڈی سی +تہران :امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدہ طے پانے کے قریب ہے امریکی عہدیدار کے مطابق وائٹ ہاؤس بدھ کے روز اس حوالے سے باضابطہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران کے ساتھ معاملات اس وقت کہاں کھڑے ہیں، تو انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا: "ہمیں اگلے 48 گھنٹوں میں معلوم ہو جائے گا۔”
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کو بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر بات چیت کا ازسرنو آغاز کرنا ہے۔
ایگزیوس نے انکشاف کیا ہے کہ مجوزہ ڈیل کے تحت آبنائے ہرمز میں 60 روزہ عقبی یا عبوری انتظام قائم کیا جائے گا، جس میں تمام آنے والے بحری جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں گے جبکہ باہر جانے والے جہاز عمانی پانیوں کا استعمال کریں گے۔ اس 60 روزہ مدت میں کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی، جبکہ فریقین 30 دنوں کے اندر درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس ثالثی میں عمان کے ساتھ ساتھ قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر بمباری کی دھمکیوں پر عمل کرنے کے بجائے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو وہ بڑے فضائی حملوں کو ہری جھنڈی دکھا دیں گے۔ اس سے قبل تین ہفتے قبل بھی فریقین میں معاہدے کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن ایران کی جانب سے جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہونے سے دو ہفتے تک شدید لڑائی چھڑ گئی تھی۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان حالیہ رابطوں کے بعد، ایرانی قیادت (بشمول سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل) نے منگل کے روز اس معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر وہ ایک بار پھر مکر گئے، تو انہیں انتہائی سخت مار پڑی گی۔” اب یا تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی یا پھر روکے گئے بمبار طیارے اپنی پروازیں شروع کر دیں گے
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امن معاہدے کی منظوری دیدی وائٹ ہاؤس آج اعلان کرے گا، ایگزیوس

