بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
لسبیلہ ڈویژن میں "خواتین کا راج”بلوچستان میں حال ہی میں تشکیل دیئے گئے لسبیلہ ڈویژن کے تین اہم ترین انتظامی عہدوں پر خواتین براجمان ہوگئیں ۔کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر، تینوں عہدوں پر خواتین افسران تعینات ہیں سائرہ عطا بلوچستان کی تاریخ میں ڈویژنل کمشنر بننے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والدین دونوں بھی بلوچستان کے اولین سی ایس پی افسران میں شامل تھے ۔
والدہ نے 1984 میں چار بچوں کی ماں ہوتے ہوئے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا تھا۔
سائرہ عطا کے والد نے میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے خضدار تک کا سفر اونٹ پر کیا تھاکیونکہ اُس وقت وہاں نہ سڑک تھی نہ گاڑی کمشنر کے علاوہ لسبیلہ میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر دو سال سے حمیرا بلوچ تعینات ہیں جبکہ بلوچستان کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر کشش چوہدری کو پچھلے مہینے تحصیل کنراج کا اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔یوں بلوچستان میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک ڈویژن کے تین اہم عہدوں پر بیک وقت خواتین افسران تعینات ہوں۔ ایک ایسا ڈویژن جہاں چیلنجز کی کمی نہیں وہاں اب قیادت مکمل طور پر خواتین کے ہاتھ میں ہے۔بلوچستان میں جہاں روایتی طور پر انتظامی عہدوں پر مردوں کی اجارہ داری رہی ہے، اس منظرنامے کو ایک غیر معمولی پیش رفت اور نمایاں تبدیلی سمجھا جا رہا ہے اور اسے صوبے کی انتظامی تاریخ میں ایک نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔


