واشنگٹن ڈی سی +تہران+عمان :ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر ’اچانک حملے کی کوشش‘ میں متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان لڑائی میں آنے والا مختصر وقفہ ختم ہو گیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ حملہ منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 45 منٹ پر کیا گیا (پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات دو بج کر 45 منٹ)، تاہم تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ہدف کون سی جگہیں تھیں۔
دوسری جانب سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ’ایران نواز شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے اردن میں امریکی اڈے پر پیشگی حملوں(preemptive strikes) کی تصدیق کر دی ہے۔
بیان میں کہا گیا: ’امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے بہادر جوانوں نے چند گھنٹے قبل اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘
گذشتہ چار روز سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست حملے رکے ہوئے تھے۔
تاہم بدھ کی صبح سینٹکام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’اچانک حملے کی کوشش‘ کی لیکن امریکی افواج ’چوکنا‘ تھیں اور داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے منگل کے روز مشرقی عراق میں مشترکہ طور پر حملے کیے ہیں، جن میں ‘ایران نواز ملیشیاؤں’ کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ نے ان گروپوں پر پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی ہدایت پر سعودی عرب میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر اور امریکی اہلکاروں پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں سینٹکام نے بتایا کہ امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کی متعدد لاجسٹکس اور ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آئی آر جی سی کی ہدایت پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
سینٹکام کا کہنا تھا کہ "امریکی سینٹرل کمانڈ اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے 28 جولائی کو عراق میں ایران نواز دہشت گردوں کے خلاف درست حملے کیے، جنہیں پاسدارانِ انقلاب نے امریکی افواج اور سعودی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کی ہدایت دی تھی۔ حالانکہ امریکی افواج پر کیے گئے یہ بلاجواز حملے ناکام رہے تھے۔”
خطے میں سکیورٹی خطرے کو اجاگر کرتے ہوئے، سینٹکام نے مزید لکھا کہ "فروری سے اپریل سال 2026 کے دوران عراق میں ایران نواز سکیورٹی ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی شہریوں اور تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں کی کوششیں کی گئیں۔”
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان کیے جانے کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے صوبوں کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے امریکہ اور سعودی عرب کی کارروائی کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں اس کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
مزید کشیدگی کی وارننگ دیتے ہوئے سینٹکام نے واضح کیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کے آلہ کاروں کو مزید امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنی جارحیت فوری طور پر روکنی ہوگی۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملے: تمام ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا ، سینٹکام، عراق میں جوابی کارروائی 8 جاں بحق، اردن میں ایران کےپیشگی حملے

