تحریر محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اِس وقت سیالکوٹ اور جموں کے درمیان ہوا کی کئی تہیں ساڑھے آٹھ سو ہیکٹو پاسکل سے 200 ہیکٹو پاسکل تک 90 فیصد نمی سے سیر شُدہ ہیں۔ یعنی فضا میں نمی عمودی حالت میں ڈیڑھ سے گیارہ کلومیٹر تک بغیر کسی رکاوٹ کے موجود ہے۔ مُلک میں داخل مغربی سلسلہ اِس وقت ملک کے بالائی شمالی حصوں میں مون سون ہواؤں سے تعامل کر کے بارشیں برسا رہا ہے۔ ناران کاغان اور مانسہرہ سے آنے والی سیلابی ریلوں کی ویڈیوز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
سیالکوٹ اور جموں کے درمیان قائم نمی کے اس طویل القامت بینڈ کا زیادہ حصہ بحیرہ عرب کی نمی سے مِل کر تشکیل پایا ہے۔ صرف یہی نمی جموں سے لے کر سیالکوٹ تک ہمارے علاقے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے اس پر طرہ یہ کہ خلیج بنگال سے #مونسون ہواؤں کی ایک نمی سے لبریز تیز رفتار لہر آج رات سے جموں کشمیر اور سیالکوٹ کے شمالی علاقوں میں داخل ہو گی۔ اس قدر شدید نمی کو دنیا کا کوئی موسمی نظام پرے نہیں دھکیل سکتا اور آخرکار اس نے پانی بن کر #بارش کی صورت میں برسنا ہی ہوتا ہے۔ فی الوقت سب سے زیادہ خطرہ مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقوں اور جموں کو لاحق ہے جہاں اِس بارش کے برسنے کا بے انتہا امکان ہے۔ جموں کشمیر میں چونکہ گزشتہ دو تین روز سے بارش برس رہی ہے لہذا وہاں کی زمین بارشی پانی سے پوری طرح سیرشُدہ ہے اور مزید بارش کی صورت میں پانی ڈھلوانوں کی راہ لے کر #سیلابی ریلوں کی صورت میں بے پناہ تباہی مچاتا ہوا بالآخر #کشمیر کی اترائیوں میں اترے گا جہاں سے ہمارے علاقے یعنی بجوات، سید پور، مناور توی، توی اور ہیڈ مرالہ کے دریائی علاقے اس پانی کا سیدھا نشانہ ہوں گے۔
موسمیاتی ماڈل آئی سی این (جرمن ماڈل) کے نئے ماڈل رن کے مطابق اس وقت نمی کا یہ بلند قامت سلسلہ جموں، جہلم اور #گوجرانوالہ ریجن کے درمیان قائم ہے اور آئندہ اڑتالیس سے بہتر گھنٹوں تک اس کے قائم رہنے کے امکانات بنے ہوئے ہیں۔ جموں سے گوجرانوالہ اور وہاں سے جہلم تک کی زمینی مثلث بادلوں کے اس وسیع سسٹم کی زد پزیری میں رہے گی اور انہی علاقوں پر زیادہ اثرات مرتب ہونے کے بھی امکانات ہیں۔ چونکہ سیالکوٹ کا علاقہ جموں کے بے حد قریب ہے لہذا سیالکوٹ ریجن کے اس سلسلے سے متاثر ہونے کے خاصے زیادہ امکانات ہیں۔ یہ امکانات آج رات بھی موجود ہیں اور سحر سے لے کر دن تک اور اب سے اگلے 48 سے 72 گھنٹوں تک موجود رہیں گے۔ سیالکوٹ کے بعد گوجرانوالہ اور #گجرات کے علاقوں میں بھی بارش کے نمایاں امکانات بنے رہیں گے۔
ایک مرتبہ پھر ہم مناور توی، توی، #چناب کے ساحلی علاقے خصوصاً بجوات کے حساس علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں سے درخواست کریں گے کہ وہ فی الوقت حساس علاقوں سے نقل مکانی کو ترجیح دیں۔ چند دنوں میں جب صورتحال معمول پر آنے لگے تب اپنے اپنے علاقوں میں واپسی ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے اپنی جان کے تحفظ کو ترجیح دیں اور ثانوی طور پر مال کو۔ دریائے چناب، توی، مناور توی اور ان سے ملحقہ نشیبی علاقوں میں آباد لوگوں سے گزارش ہے کہ پانی کی تازہ صورتحال سے مسلسل باخبر رہیں۔ مویشیوں، زرعی سامان اور ضروری اشیا کو دریا یا ندی نالوں کے کناروں سے محفوظ مقام پر منتقل رکھا جائے۔ پانی کی سطح بڑھنے کی صورت میں دریا یا نالہ عبور کرنے، کنارے پر کھڑے ہونے یا سیلابی پانی میں گاڑی داخل کرنے سے مکمل گریز کیا جائے۔
پٹھان کوٹ و شکر گڑھ، سامبا و کٹھوعہ مشرقی سیکٹر پر بھی چونکہ بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور موجودہ بارش جو آج رات یا کل دن کے دوران برسنا شروع کر سکتی ہے وہ پہلے سے موجود پانیوں پر اضافی دباؤ ڈالے گی لہذا ظفروال سائیڈ پر نالہ ڈیک کے ساتھ موجود دیہات کے لوگوں کو بھی محتاط ہو جانا چاہیے۔ نالہ ایک، پلکھو، بسنتر کے کنارے آباد بستیوں کے مکینوں کو بھی اِنتباہ جاری کیا جاتا ہے کہ پیشگی احتیاطی اقدامات بروقت کر رکھیں اور الرٹ رہیں۔
علاقائی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ مرالہ، بجوات، چپراڑ، توی، مناور توی، نالہ ڈیک، نالہ ایک، نالہ پلکھو اور نالہ بسنتر کے حساس مقامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھے۔ کمزور پشتوں، بندوں، پلوں اور نکاسی کے راستوں کا بروقت معائنہ کیا جائے اور امدادی ٹیموں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں کے قریب تیار رکھا جائے
فضا میں گہری نمی، بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کی نم آلود ہواؤں، مغربی سلسلے، پہاڑی اٹھان اور پہلے سے نم زمین کا مجموعہ ایک سنجیدہ بارشی و آبی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ تاہم بارش کا عین مرکز، آغاز کا وقت اور حتمی مقدار اب بھی بدل سکتی ہے۔ ہر مقام پر انتہائی بارش ہونا ضروری نہیں، لیکن جہاں بارشی پٹی قائم ہوئی وہاں مختصر وقت میں صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے۔
ہماری عوام سے اپیل ہے کہ خوف و ہراس کے بجائے مکمل تیاری، بروقت معلومات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات کو ترجیح دیں۔ بارش کا انتظار کرنے کے بجائے احتیاطی انتظامات پہلے سے مکمل کر لینا ہی دانش مندی ہے۔
اِنتباہ! یہ تحریر دستیاب بارشی اعداد، سرکاری موسمی و سیلابی انتباہات اور عالمی موسمیاتی ماڈلز کی روشنی میں عوامی آگاہی کیلئے مرتب کی گئی ہے۔ یہ تحریر سرکاری موسمی پیشگوئی، انخلاء کے حکم یا ہنگامی ہدایت کا متبادل ہرگز نہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔


