سیالکوٹ ۔سلیم احمد اعوان شیخو
بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے چھوڑا گیا پانی کسی بھی وقت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ فی الحال سیلابی پانی پاکستانی حدود سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری لائن کے علاقہ بجوات سے کافی فاصلے پر ہے اور علاقے تک پہنچنے میں تقریباً 28 گھنٹے کا دورانیہ بتایا جا رہا ہے لیکن احتیاط علاج سے بہتر ہے جبکہ سابقہ تجربات ہمارے سامنے ہیں۔پچھلی بار بھی اس ڈیم کے پانی کی وجہ سے علاقہ بجوات کے متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے تھے اور بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کے ارباب اختیار علاقہ بجوات کے 85 دیہات کے مکینوں سے کہا ہے کہ خدارا وقت اپنے حفاظتی انتظامات فوری طور پر مکمل کرتے ہوئے اپنے مویشیوں اور ضروری سامان کو فوراً محفوظ اور اونچی جگہوں پر منتقل کریں جبکہ خوراک پینے کا صاف پانی اور ضروری ادویات کا ذخیرہ کر لیں بلکہ خواتین بچوں اور بزرگوں کی حفاظت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تمام پیشگی تدابیر اختیار کریں۔ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اپنے ہمسایوں کی مدد کریں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی سمیت تمام متعلقہ محکمے و ادارے اور روس کار تنظیمیں ہمہ وقت آپ کے ساتھ ہیں۔

